30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر مسلمانوں کا آپ سے راضی ہونا۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کا راضی رہنا بھی الله کی نعمت ہے اور مسلمانوں کا خوش رہنا بھی الله کی رحمت ہے یہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔
۷؎ یعنی حضور انور کی صحبت حضور کا مجھ سے راضی رہنا یہ میری کسبی خوبی نہیں ہے یہ خاص عطاء ذوالجلال ہے ؎
ایں سعادت بزور بازو نیست تانہ بخشد خدا،بخشندہ
صحابی رسول الله بننا وہ سعادت ہے کہ اس کے مقابل کوئی سعادت نہیں بنی،تمام جہان کے ولی غوث قطب صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے۔
۸؎ یعنی حضور انور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کی صحبت اور ان کا مجھ سے راضی ہونا یہ بھی الله کی نعمت ہے۔معلوم ہوا کہ اولیاء الله کی صحبت الله کی رحمت ہے ؎
آدھی سے آدھی بھلی اور آدھی سے بھی آدھ بھیگا سنگت سادھ کی کاٹے کوٹ اپرات
یعنی الله کے مقبول بندوں کی صحبت ایک بلکہ آدھی گھڑی کی بھی مبارک ہے ان کی صحبت گناہوں کے پہاڑ توڑ دیتی ہے حضر ت فرید کی والدہ ان سے فرماتی تھیں ؎
اُٹھ جاگ فریداستیا اوہ خلقت ویکھن جا مت کوئی بخشیا مل پوے کہ تو بھی بخشیا جا
ان سب کی اصل یہ حدیث شریف ہے۔
۹؎ یعنی میری یہ گھبراہٹ اپنی تکالیف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس خیال سے ہے کہ میرے بعد مسلمانوں کا خصوصًا آپ اہل بیت لوگوں کا کیا بنے گا میں بڑے بڑے فتنوں کے سامنے مضبوط اور بند دروازہ ہوں میری شہادت کے بعد مسلمانوں میں بڑے بڑے فتنے ہوں گے جیسے کہ حدیث شریف میں ہے۔چنانچہ شہادت عثمان جو مسلمانوں میں تلوار چلنے کا مبداء بنی وہ آپ کے بعد ہی واقع ہوئی۔
۱۰؎ یہ ہے خوف الٰہی کی انتہا جو کمال ایمان کی دلیل ہے۔حضرت عمر وہ ہستی ہیں کہ ان کے طفیل لوگ بخشے جائیں گے مگر خود اپنی ہیبت کا یہ حال ہے یہاں مرقات نے حضرت عمر فاروق کی چند کرامات کا ذکر فرمایا۔
کرامات عمر فاروق ! رضی اللہ عنہ
(۱) جمعہ کے دن حضرت عمر خطبہ پڑھ رہے ہیں کہ پکارا اے ساریہ پہاڑ کو لو دو یا تین بار فرمایا،لوگوں نے بعد خطبہ پوچھا کہ اے امیر المؤمنین ساریہ تو نہاوند میں جہاد کررہے ہیں آپ نے انہیں یہاں سے کیسے پکارا،فرمایا میں نے ان سب کو جہاد کرتے دیکھا،دشمن پہاڑ کے پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا تھا میں نے انہیں اطلاع دے دی،بہت عرصہ بعد ساریہ آئے انہوں نے کہا کہ ہم کو حضرت عمر کی آواز نے شکست سے بچایا۔(۲)جب حضرت عمرو ابن عاص نے مصر فتح فرمایا تو وہاں دیکھا کہ ہر سال دریائے نیل میں ایک کنواری لڑکی بھینٹ چڑھائی جاتی ہے آپ نے یہ رواج روک دیا دریائے نیل سوکھ گیا،آپ نے حضرت عمر کو مدینہ منورہ خط لکھا حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ اے دریا اگر تو خدا کے حکم سے بہتا ہے تو الله کے حکم سے جاری ہوجا اور حکم دیا کہ میرا یہ خط دریا نیل میں ڈال دیا جاوے ڈالا گیا تو دریا قیامت تک کے لیے جاری ہوگیا۔(۳)ابو مسلم خولان کو اسود ابن قیس نے کہا کہ تو مجھے نبی مان لے انہوں نے انکار کیا اس نے آگ جلوا کر ابو مسلم کو اس میں ڈال دیا آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی،اس نے انہیں اپنے شہر سے نکلوا دیا اور مدینہ منورہ حضرت عمر کے پاس آئے آپ نے انہیں اپنے سینے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع