30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6055 -[21] وَعَن المِسور بن مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذَلِكَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَلِك من من الله جلّ ذكره مَنَّ بِهِ عَلَيَّ. وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جزعي فَهُوَ من أَجلك وَأجل أَصْحَابِكَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبا لافتديت بِهِ من عَذَاب الله عز وَجل قبل أَن أرَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے۱؎ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا۲؎ تو آپ غم کرنے لگے ان سے ابن عباس نے تسکین دیتے ہوئے عرض کیا۳؎ اے امیر المؤمنین آپ ان تمام کی پرواہ نہ کریں۴؎ آپ رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ رہے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی پھر وہ آپ سے جدا ہوئے وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ رہے تھے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ان کا ساتھ خوب نبھایا۵؎ اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس طرح جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۶؎ آپ نے فرمایا یہ جو تم نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی صحبت پاک کا اور آپ کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۷؎ لیکن جو تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ بھی مجھ پر الله کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۸؎ لیکن میری گھبراہٹ تم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۹؎ الله کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر کرسونا ہو تو میں عذاب الٰہی سے فدیہ دے دوں اسے دیکھنے سے پہلے۱۰؎(بخاری) |
۱؎ آپ حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے بھانجے ہیں بہت کم عمر صحابی ہیں،حضور انور کی ہجرت کے دو سال بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے،ذی الحجہ ۸ آٹھ ہجری میں مدینہ منورہ لائے گئے،حضور انور کی زیارت کی،آپ کی آٹھ سال کی عمر تھی جب حضور انور کی وفات شریف واقع ہوئی،بڑے فقیہ عابد و زاہد تھے۔
۲؎ حضرت عمر کو مغیرہ ابن شعبہ کے غلام ابو لولو نے مدینہ منورہ میں چھبیس ذی الحجہ ۲۳ تئیس ہجری کو بدھ کے دن نیزہ مارا آپ زخمی ہونے کی حالت میں بہت ہی رنج و غم فرمانے لگے۔
۳؎ تجزع باب تفعیل کا مضارع ہے اوریہاں یہ باب سلب مادہ کے لیے ہے،جزع بمعنی گھبراہٹ اور تجزعہ بمعنی گھبراہٹ دور کرنے یعنی تسلی دینا۔
۴؎ کل ذالك سے پہلے ایک فعل لابتال پوشیدہ ہے یعنی آپ ان تکالیف کی پرواہ نہ کریں کیونکہ آپ کو الله تعالٰی نے بڑے کرم سے نوازا ہے جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔
۵؎ یعنی تین نعمتیں تو آپ کو پہلے مل چکی ہیں: حضور انور صلی الله علیہ و سلم کی صحبت اور حضور صلی الله علیہ و سلم کا آپ سے راضی ہونا،پھر حضرت ابوبکر کی صحبت و رفاقت کہ آپ ان کے وزیر با تدبیر رہے اور ان جناب کا آپ سے خوش رہنا پھر خلافت اسلامیہ اور ان میں آپ کا عدل و انصاف فرمانا مسلمانوں کا آپ سے راضی رہنا۔
۶؎ یعنی اگر اس قاتلانہ حملہ سے آپ کی وفات ہوگئی تو سبحان الله! شہادت وہ بھی مدینہ منورہ کی زمین میں نماز کی حالت میں مسجد نبوی شریف میں اور حضور صلی الله علیہ و سلم کے مصلے شریف پر،یہ خوبیاں آپ کے سواءکسی کو میسر نہ ہوئیں نہ ہوں گی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع