دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6053 -[19]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكَ الرَّجُلُ أَرْفَعُ أُمَّتِي دَرَجَةً فِي الْجَنَّةِ» . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَاللَّهِ مَا كُنَّا نُرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں  فرمایا رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے کہ یہ شخص میری امت میں جنت کے بڑے درجہ والا ہے ۱؎  ابوسعید نے فرمایا الله  کی قسم ہم یہ شخص حضرت عمر ابن خطاب ہی کو سمجھے رہے حتی کہ وہ اپنی راہ چلے گئے۲؎ (ابن ماجہ)

۱؎  اس فرمان عالی کے بہت مطلب بیان کیے گئے: قوی یہ ہے کہ ذاك الرجل سے اشارہ حضرت خضر علیہ السلام کی طرف ہے کیونکہ حضور انور نے اس سے پہلے دجال کا ذکر فرماتے ہوئے کہا کہ ایک شخص اس سے کہے گا کہ تو کافر ہے تو وہی ہے جس کی خبر ہم کو رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم نے دی تھی،وہ دجال ان بزرگ کو آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کردے گا پھر زندہ کر لے گا،وہ زندہ ہوکر فرمائیں گے کہ اب تو مجھے تیرے کافر ہونے کا اور بھی زیادہ یقین ہوگیا،اس کے بعد حضور انور نے یہ فرمایا کہ یہ شخص میری امت میں بڑے درجہ والا جنتی ہوگا یعنی اس زمانہ کے لوگوں میں سب سے افضل ہوگا۔(مرقات)

۲؎  یعنی ہمارا خیال یہ تھا کہ دجال سے مقابلہ والے وہ صاحب حضرت عمر ہی ہوں گے آپ کے زمانہ میں دجال نکلے گا اور آپ اس کا مقابلہ کریں گے مگر جب آپ شہید کر دیئے گئے تب ہم سمجھے کہ کوئی اورصاحب ہیں۔لہذا حدیث واضح ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ کیا حضرت عمر جناب صدیق اکبر سے بھی بڑے درجے والے ہیں۔(مرقات)اس عبارت کے اور مطلب بھی بیان کیے گئے ہیں مگر یہ مطلب آسان بھی ہے اور واضح بھی اور قوی بھی۔

6054 -[20]

وَعَن أسلم قَالَ: سَأَلَنِي ابْنُ عُمَرَ بَعْضَ شَأْنِهِ - يَعْنِي عُمَرَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حِينِ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ حَتَّى انْتهى من عمر. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے  حضرت اسلم سے ۱؎  فرماتے ہیں مجھ سے ابن عمر نے ان کے یعنی حضرت عمر کے بعض حالات پوچھے۲؎ میں نے انہیں خبر دی تو فرمایا کہ جب سے رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کی وفات ہوئی میں نے حضرت عمر سا کوئی زیادہ کوشش والا زیادہ سخی نہیں دیکھا حتی کہ وفات پائی۳؎ (بخاری)

۱؎  آپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ کی کنیت ابو خالد ہے،حبشی تھے،     ۱۱ھ؁ میں آپ کو حضرت عمر نے خریدا تھا،آپ تابعی ہیں اور آپ کے بیٹے کا نام زید ابن اسلم ہے،آپ نے مروان ابن حکم کی حکومت میں وفات پائی ایک سو چودہ سال عمر ہوئی۔(مرقات)ایک اسلم اور بھی ہیں جن کی کنیت ابو رافع ہے وہ صحابی ہیں وہ یہاں مراد نہیں۔

۲؎  چونکہ جناب اسلم حضرت عمر کے غلام اور خاص خادم تھے آپ کے علانیہ اور خفیہ حالات سے مطلع تھے اس لیے حضرت عبدالله  ابن عمر اگرچہ صاحبزادہ ہیں مگر آپ کے خفیہ حالات خادم خاص سے پوچھ رہے ہیں یعنی حضرت عبدالله  ابن عمر نے مجھ سے فرمایا کہ میرے والد حضرت عمر رضی الله  عنہ کے وہ خصوصی خفیہ حالت بیان کرو جس کی صرف تم کو خبر ہوگی اور کسی کو خبر نہیں۔

۳؎  یعنی حضور انور کی وفات کے بعد خلافت فاروقی میں آپ سے بڑھ کر محنتی الله  کی راہ میں جفا کشی راہ خدا میں زیادہ سخی کوئی نہ دیکھا۔(اشعۃ اللمعات)اس صورت میں حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ تو آپ سے بڑھ کر سخی اور محنتی تھے یا یوں کہو کہ یہ حضرت عمر کی خصوصی فضیلت ہے آپ کی مثل مشقت و محنت الله  کی راہ میں غالبًا کسی نے نہ کی ہوگی۔

6055 -[21]

وَعَن المِسور بن مَخْرَمةَ قَالَ: لَمَّا طُعِنَ عُمَرُ جَعَلَ يَأْلَمُ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَكَأَنَّهُ يُجَزِّعُهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَلَا كُلُّ ذَلِكَ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ أَبَا بَكْرٍ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُ ثُمَّ فَارَقَكَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ ثُمَّ صَحِبْتَ الْمُسْلِمِينَ فَأَحْسَنْتَ صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ. قَالَ: أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَرضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاك مَنٌّ مِنَ اللَّهِ مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَلِك من من الله جلّ ذكره مَنَّ بِهِ عَلَيَّ. وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جزعي فَهُوَ من أَجلك وَأجل أَصْحَابِكَ وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبا لافتديت بِهِ من عَذَاب الله عز وَجل قبل أَن أرَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے۱؎ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر کو نیزہ مارا گیا۲؎ تو آپ غم کرنے لگے ان سے ابن عباس نے تسکین دیتے ہوئے عرض کیا۳؎ اے امیر المؤمنین آپ ان تمام کی پرواہ نہ کریں۴؎ آپ رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کے ساتھ رہے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی پھر وہ آپ سے جدا ہوئے وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ رہے تھے تو ان کی رفاقت خوب نبھائی وہ آپ سے جدا ہوئے تو وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ مسلمانوں کے ساتھ رہے ان کا ساتھ خوب نبھایا۵؎  اگر آپ ان سے جدا ہوئے تو اس طرح جدا ہوں گے کہ وہ آپ سے راضی ہوں گے۶؎ آپ نے فرمایا یہ جو تم نے رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کی صحبت پاک کا اور آپ کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ الله  کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۷؎ لیکن جو تم نے حضرت ابوبکر کی صحبت اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا یہ بھی مجھ پر الله  کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا۸؎ لیکن میری گھبراہٹ تم دیکھ رہے ہو وہ تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی وجہ سے ہے ۹؎  الله  کی قسم اگر میرے پاس زمین بھر کرسونا ہو تو میں عذاب الٰہی سے فدیہ دے دوں اسے دیکھنے سے پہلے۱۰؎(بخاری)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن