30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جناب زینب کے پاس شہد تھا حضور صلی الله علیہ و سلم کو شہد بہت مرغوب تھا،حضور صلی الله علیہ و سلم روزانہ بعد عصر ان کے پاس تشریف لے جاتے شہد ملاحظہ فرماتے تھے،حضرت عائشہ اور حفصہ وغیرہ کو اس سے بہت غیرت ہوئی کہ حضور روزانہ وہاں کیوں جاتے ہیں،انہوں نے حضور انور صلی الله علیہ و سلم کو وہاں سے روکنے کے لیے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس حضور صلی الله علیہ و سلم تشریف لائیں وہ یہ کہہ دیں کہ حضور انور کے منہ شریف سے مغافیر گوند کی بو آتی ہے ان دونوں بیویوں نے یہ ہی عرض کیا،حضور انور صلی الله علیہ و سلم نے اپنے پر شہد حرام فرمالیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکَ"وہ واقعہ یہاں مذکور ہے اس موقع پر حضرت عمر نے یہ فرمایا تھا۔
۶؎ جو الفاظ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمائے تھے انہی الفاظ میں آیت کریمہ نازل ہوئی۔
|
6051 -[18] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: فِي مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ وَفِي الْحِجَابِ وَفِي أُسَارَى بَدْرٍ. |
حضرت ابن عمر کی روایت میں ہے کہ جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی مقام ابراہیم میں اور پردہ میں اور بدر کے قیدیوں میں ۱؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ ان مختلف روایتوں میں مختلف باتوں کا ذکر ہے اور سب روایات درست ہیں تقریبًا پندرہ آیات حضرت عمر کی رائے کے مطابق آئی ہیں۔متفرق روایات میں متفرق چیزوں کا ذکر ہے بدر کے قیدیوں کے متعلق جو واقعہ ہوا ہے وہ تو مشہور ہی ہے۔
|
6052 -[18] وَعَن ابْن مَسْعُود قَالَ: فُضِّلَ النَّاسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِأَرْبَعٍ: بِذِكْرِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ أَمَرَ بِقَتْلِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى[لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُم عَذَاب عَظِيم] وَبِذِكْرِهِ الْحِجَابَ أَمَرَ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْتَجِبْنَ فَقَالَتْ لَهُ زَيْنَبُ: وَإِنَّكَ عَلَيْنَا يَا ابْنَ الْخَطَّابِ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ فِي بُيُوتِنَا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعا فَاسْأَلُوهُنَّ من وَرَاء حجاب] وَبِدَعْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ» وَبِرَأْيِهِ فِي أَبِي بَكْرٍ كَانَ أول نَاس بَايعه. رَوَاهُ أَحْمد |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ عمر ابن خطاب کو چار باتوں میں لوگوں پر بزرگی عطا ہوئی بدر کے دن قیدیوں کے تذکرہ سے آپ نے ان کے قتل کا مشورہ دیا ۱؎ تو الله تعالٰی نے یہ آیت اتاری کہ رب کی تحریر پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو تم کو اس لیے ہوئے مال میں بڑا عذاب پہنچتا۲؎ اور ان کے پردہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ آپ نے نبی صلی الله علیہ و سلم کی بیویوں کو پردہ کا مشورہ دیا تو ان سے جناب زینب بولیں اے ابن خطاب کیا تم ہم پر حکم چلاتے ہو حالانکہ وحی ہمارے گھروں میں اترتی ہے۳؎ تب رب نے یہ آیت نازل کی کہ جب تم ان سے سامان مانگو تو پردہ کے پیچھے سے مانگو۴؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی دعا سے کہ الٰہی تو عمر کے ذریعہ اسلام کو قوت دے اور ان کی رائے جناب ابوبکر کے متعلق رائے کی وجہ سے آپ نے لوگوں سے پہلے ان سے بیعت کی۵؎ (احمد) |
۱؎ یعنی حضرت عمر کا مشورہ یہ تھا کہ سارے قیدی اس طرح قتل کیے جائیں کہ ہر مسلمان اپنے عزیز کافر قیدی کو قتل کرے اس طرح کہ یارسول الله اپنے چچا عباس کو آپ قتل کریں اور اپنے بیٹے عبدالرحمن کو حضرت صدیق قتل کریں اوراپنے ماموں ہشام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع