دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6050 -[17] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَن أنس وَابْن عمر أَن عمرقَالَ:وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: قُلْتُ:يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ [وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى] . وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ [عَسَى رَبُّهُ إِنْ طلَّقكنَّ أَن يُبدلهُ أَزْوَاجًا خيرا منكنَّ] فَنزلت كَذَلِك

روایت ہے حضرت انس اور ابن عمر سے کہ جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب سے موافقت کی ۱؎  میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم مقام ابراہیم کو جاء نماز بنالیتے تو یہ آیت  نازل ہوئی کہ مقام ابراہیم جاء نماز بناؤ۲؎ اور میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ آپ کی بیویوں کے پاس بھلے برے لوگ آجاتے ہیں۳؎ مناسب تھا کہ آپ انہیں حکم دیتے کہ وہ پردہ کرلیتیں تو پردہ کی آیت نازل ہوئی۴؎  اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں غیرت کھا کر جمع ہوئیں۵؎ تو میں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا فرمادے تو آیت بھی اسی طرح اتری۶؎

۱؎  سبحان الله! کیسا پیارا ادب ہے یہ نہ کہا کہ رب نے میری موافقت فرمائی حالانکہ آپ کی رائے پہلے تھی نزول آیات بعد میں۔اس میں اشارۃً یہ فرمایا کہ رب کا حکم قدیم تھا میری یہ رائے احادیث ادب کی انتہا ہے۔یہاں تین کا ذکر زیادتی کی نفی کے لیے نہیں،کل پندرہ۱۵ آیتیں آپ کی رائے کے مطابق آئی ہیں۔(مرقات)بدر کے قیدیوں کے متعلق آیت،منافقوں کا جنازہ نہ پڑھنے کی آیت بھی آپ کی رائے کے مطابق آئی رضی الله  عنہ۔

۲؎  یعنی میرا دل چاہتا ہے طواف کے نفل کہ ہم مقام ابراہیم کے سامنے اس طرح پڑھا کریں کہ کعبہ کی طرف نماز ہو مگر سامنے یہ پتھر بھی ہو جس پر جناب خلیل کے قدم پڑے ہیں تاکہ عین نماز میں اس پتھر کا بھی ادب ہوتا رہے تو رب تعالٰی نے اس ہی چیز کا حکم دیا کہ"وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی"آج تک طواف کے نفل اس جگہ اسی طرح ادا ہوتے ہیں یہ ہے حضرت عمر فاروق کا احترام تبرکات۔آپ کا سنگ اسود سے فرمانا کہ اے پتھر تو ایک پتھر ہے نہ نفع دے نہ نقصان،میں نے رسول الله  صلی الله  علیہ و سلم کو تجھے چومتے دیکھا ہے اس لیے چومتا ہوں اس کا مقصد سنگ اسود کی توہین فرمانا نہیں وہاں مقصد ہی کچھ اور ہے جو ہم حج کے بیان میں عرض کرچکے ہیں،یہ بھی غلط ہے کہ حضرت عمر نے بیعت رضوان والا درخت کٹوایا وہ تبرکات کے دشمن نہ تھے،آپ تبرکات کا ایسا احترام کرتے تھے جو یہاں مذکور ہے۔

۳؎  یعنی ابھی اسلام میں پردہ کا حکم نہیں اس لیے ہر طرح کے آدمی آپ کے دولت خانہ میں آجاتے ہیں حضور کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے آپ اپنی ازواج پاک کو پردہ کا حکم دیں۔

۴؎  یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ عام مؤمنہ عورتوں کا پردہ یہ ہے کہ اپنا چہرہ اجنبی کو نہ دیکھنے دیں مگر ازواج پاک کا پردہ یہ تھا کہ برقع اوڑھ کر بھی کسی اجنبی کے سامنے نہ ہوں تاکہ ان کے جسم کا اندازہ بھی کسی کو نہ ہوسکے۔(اشعۃ اللمعات)یہاں مرقات میں ہے کہ ایک بار حضور صلی الله  علیہ و سلم اور جناب عائشہ صدیقہ ایک پیالہ میں حیس کھا رہے تھے،حضرت عمر حاضر ہوئے فرمایا آؤ تم بھی کھاؤ وہ کھانے لگے کہ حضرت عمر کی انگلی حضرت عائشہ کی انگلی سے چھوگئی آپ نے کہا اوہ  کاش آپ کی بیویوں کو کوئی آنکھ نہ دیکھ سکتی اس پر آیت حجاب نازل ہوئی۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن