30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6049 -[15] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي» فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ.فَقَالَ لِي:«أَمَا شَبِعْتِ؟أَمَاشَبِعْتِ؟» فَجَعَلْتُ أَقُولُ:لَا لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ إِذ طلع عمر قَالَت فَارْفض النَّاس عَنْهَا. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأنظر إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ» قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے تو ایک حبشی بچی ناچ رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد تھے ۱؎ فرمایا اے عائشہ آؤ دیکھو۲؎ چنانچہ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر رکھ دیئے۳؎ میں حضور کے سر اور کندھے کے درمیان سے ادھر دیکھنے لگی مجھ سے فرمایا کیا تم سیر نہیں ہوئیں کیا تم سیر نہیں ہوئیں میں کہنے لگی نہیں تاکہ میں حضور کے نزدیک اپنا مقام دیکھوں۴؎ کہ اچانک حضرت عمر نمودار ہوئے تو لوگ اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۵؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں جن و انس کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر سے بھاگ گئے۶؎ فرماتی ہیں پھرمیں لوٹ آئی(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔ |
۱؎ یہ ناچنے والی لونڈی تھی وہ بھی بچی اور اس کا تماشہ دیکھنے والے بھی مدینہ منورہ کے بچے تھے۔تزفن بنا ہے زفن سے بمعنی پاؤں زمین پر مارنا،اس سے مراد ہے ناچنا عمومًا بچے ایسی حرکت کرتے ہیں یہ ان کا کھیل کود اور شغل ہوتا ہے۔
۲؎ اس وقت ام المؤمنین بھی نو عمر بچی ہی تھیں آپ کو کھیل دیکھنے کا بہت شوق تھا یہ ہے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق کریمانہ۔ہم کو تعلیم دی کہ گھر والوں سے ایسا برتاؤ کرو اپنی بیوی کے جائز شوق حتی المقدور پورے کرو۔معلوم ہوا کہ بچوں کا کھیلنا اور انہیں کھیل دکھانا بالکل جائز ہے۔
۳؎ لحیی تثنیہ ہے لحیٰ کا بمعنی جبڑے،یہ مضاف ہے متکلم کی طرف اس لیے ی مشددہے۔یعنی حضورانورصلی اللہ علیہ و سلم میرے سامنے کھڑے ہوگئے آڑ بن گئے میں نے حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ دی کندھے اور سر مبارک کے درمیان سے ان کا کھیل دیکھنے لگی ؎
ناز برداری تمہاری کیوں نہ فرمائے خدا نازنین حق نبی ہیں تم نبی کی نازنین
آپ کا لقب ہے محبوبہ محبوب رب العالمین رضی اللہ عنہا،ہم سب کو فخر ہے کہ ہم اس عظمت والی ماں کی اولاد ہیں۔
۴؎ یعنی میں بہت دیر تک یہ تماشا دیکھتی رہی اور حضور انور میری خاطر کھڑے رہے،میں اگرچہ تماشہ سے سیر ہوچکی تھی مگر میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ حضور انور کو مجھ سے کتنی محبت ہے اور میری خاطر حضور کب تک یہاں قیام فرما رہیں گے۔
۵؎ اس بھاگنے کی وجہ ابھی پچھلی حدیث میں عرض کی گئی کہ یہ کام جائز تھا مگر صورۃً کھیل تماشا تھا،حضرت عمر کی ہیبت چھوٹوں بڑوں سب کے دلوں میں تھی یہ رعب و ہیبت رب تعالٰی کا عطیہ تھی۔
۶؎ یہ شیاطین جو اس وقت بھاگے یہ وہ شیاطین تھے جو انسانوں کے ساتھ رہتے یا جو بازاروں میں مجمعوں میں رہتے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ بازاروں میں مساجد میں مجمعوں میں شیاطین رہتے ہیں،مسجدوں کے شیاطین وضو اور نماز میں بہکانے کے لیے رہتے ہیں،بازاروں میں گناہ کرانے کے لیے،اس سے لازم یہ نہیں آتا کہ بازاروں اور مسجدوں میں جانا حرام ہو یا وہاں کی حاضری شیطانی کام ہو۔دوسری روایات میں ہے کہ عید کے دن بچے حدود مسجد میں کھیل رہے تھے حضرت عمر نے انہیں بھگانا چاہا تو حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا عمر آج عید ہے انہیں عید منانے دو۔حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس کچھ بچیاں گا بجا رہی تھیں حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم چادر اوڑھے لیٹے تھے،جناب صدیق اکبر نے انہیں منع کیا تو چہرہ انور کھول کر فرمایا کہ اے ابوبکر ہر قوم کی عید ہوتی ہے آج ہماری عید ہے انہیں خوشی منانے دو۔بہرحال یہ حدیث بالکل واضح ہے کہ حضرت ام المؤمنین بھی اس وقت بچی تھیں اور وہ ناچنے والی بھی بچی ناچ دیکھنے والے بھی بچے تھے لہذا یہاں بے پردگی کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
|
6050 -[17] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن أنس وَابْن عمر أَن عمرقَالَ:وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ: قُلْتُ:يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ [وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى] . وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَدْخُلُ عَلَى نِسَائِكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ وَاجْتَمَعَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَيْرَةِ فَقُلْتُ [عَسَى رَبُّهُ إِنْ طلَّقكنَّ أَن يُبدلهُ أَزْوَاجًا خيرا منكنَّ] فَنزلت كَذَلِك |
روایت ہے حضرت انس اور ابن عمر سے کہ جناب عمر نے فرمایا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب سے موافقت کی ۱؎ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم مقام ابراہیم کو جاء نماز بنالیتے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ مقام ابراہیم جاء نماز بناؤ۲؎ اور میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ آپ کی بیویوں کے پاس بھلے برے لوگ آجاتے ہیں۳؎ مناسب تھا کہ آپ انہیں حکم دیتے کہ وہ پردہ کرلیتیں تو پردہ کی آیت نازل ہوئی۴؎ اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں غیرت کھا کر جمع ہوئیں۵؎ تو میں نے کہا کہ ممکن ہے کہ اگر وہ تم کو طلاق دے دیں تو ان کا رب انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا فرمادے تو آیت بھی اسی طرح اتری۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع