30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہا،حضرت عمر کے آنے پر بند ہوگیا کہ اب لہو و لعب بن گیا۔قوالی درد والے کے لیے درست ہے مگر جو اس زمرہ کا نہ ہو جس کے عشق پر اطاعت کا غلبہ ہو اس کے لیے درست نہیں اور اگر قوالی میں ایک شخص غیر اہل آجاوے تو سب کے لیے لہو بن جاتی ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔یہ واقعہ ایسا ہے جیسے حضرت عائشہ نے حریرہ بنایا اور بی بی سودہ سے کہا کہ کھاؤ انہوں نے انکار کیا آپ نے حریرہ ان کے منہ سے مل دیا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سودہ سے فرمایا کہ تم بھی عائشہ کے منہ سے مل دو انہوں نے بھی مل دیا،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تبسم فرما رہے تھے وہ دونوں ہنس رہی تھیں کہ حضرت عمر نے دروازے کے باہر سے آواز دی،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم دونوں جلدی اپنے منہ دھولو عمر آرہے ہیں،حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس دن سے میں جناب عمر سے ہیبت کرتی ہوں دیکھو مرقات۔
۶؎ یعنی اے عمر یہ تو ایک عورت ہے جو ایسا کام کررہی تھی جو حقیقتًا درست تھا صورۃً کھیل تھا یہ کیوں نہ ڈر جاتی تمہاری ہیبت کا تو یہ عالم ہے کہ تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے جو مردود دوسروں سے نہیں ڈرتا۔اس فرمان عالی میں نہ تو اس عورت کوشیطان فرمایا گیا اور نہ اس کے اس عمل کو شیطانی کہا گیا کہ یہ عمل حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم کی اجازت سے ہوا تھا لہذا حدیث بالکل ظاہر ہے،یا یہ مطلب ہے کہ اب تمہارے آنے سے یہ کام غیر درست ہوگیا اور بند ہوگیا جیساکہ ابھی عرض کیا گیا۔
۷؎ یعنی ہم چاروں ہستیوں سے یہ بی بی نہ گھبرائی ہمارے رحم و کرم پر بھولی رہی گاتی بجاتی رہی۔
۸؎ اس حدیث سے بہت سے وہ مسائل حاصل ہوئے جو ابھی شرح کے ضمن میں عرض کیے گئے: (۱)حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سلامتی اور تشریف آوری کی خوشی منانا عبادت مستحبہ ہے لہذا میلاد شریف معراج شریف وغیرہ کی تاریخوں میں عید منانا خوشیاں کرنا عبادت ہے(۲)لونڈی پر پردہ نہیں(۳)لونڈی کی آواز اجنبی سن سکتا ہے(۴)دف بجانا مطلقًا منع نہیں بلکہ لہو و لعب کے لیے ہوتو منع ہے(۵)اچھے اور جائز اشعار گانا اور ان کا سننا منع نہیں(۶)حضرت صدیق و عثمان وعلی رضی اللہ عنہم پر غلبہ محبت ہے اور حضرت عمر پر غلبہ اطاعت لہذا ان حضرات کے مراتب جداگانہ ہیں۔
|
6049 -[15] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تَزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي» فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ.فَقَالَ لِي:«أَمَا شَبِعْتِ؟أَمَاشَبِعْتِ؟» فَجَعَلْتُ أَقُولُ:لَا لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ إِذ طلع عمر قَالَت فَارْفض النَّاس عَنْهَا. قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لأنظر إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ» قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے شور اور بچوں کی آواز سنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کھڑے ہوئے تو ایک حبشی بچی ناچ رہی تھی اور بچے اس کے اردگرد تھے ۱؎ فرمایا اے عائشہ آؤ دیکھو۲؎ چنانچہ میں آئی تو میں نے اپنے جبڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کندھے پر رکھ دیئے۳؎ میں حضور کے سر اور کندھے کے درمیان سے ادھر دیکھنے لگی مجھ سے فرمایا کیا تم سیر نہیں ہوئیں کیا تم سیر نہیں ہوئیں میں کہنے لگی نہیں تاکہ میں حضور کے نزدیک اپنا مقام دیکھوں۴؎ کہ اچانک حضرت عمر نمودار ہوئے تو لوگ اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۵؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں جن و انس کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر سے بھاگ گئے۶؎ فرماتی ہیں پھرمیں لوٹ آئی(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی غریب بھی۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع