30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6048 -[14] وَعَن بُرَيْدَة قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ. فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كنتُ نذرت إِن ردك الله سالما أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا» فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ» .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيب |
روایت ہے حضرت بریدہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے کسی جہاد میں تشریف لے گئے ۱؎ تو جب واپس ہوئے تو ایک سیاہ فام لونڈی آئی بولی یا رسول اللہ میں نے منت مانی تھی کہ اگر اللہ آپ کو صحیح سلامت واپس لائے تو آپ کے سامنے دف بجاؤں اور گاؤں۲؎ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر تو نے منت مانی ہے تو بجالے ورنہ نہیں۳؎ وہ دف بجانے لگی ابوبکر صدیق آئے وہ بجاتی رہی پھر جناب علی آئے وہ بجاتی رہی پھر جناب عثمان آئے وہ بجاتی رہی۴؎ پھر حضرت عمر آئے تو اس نے دف اپنے چوتڑوں کے نیچے رکھ لی پھر اس پر بیٹھ گئی۵؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے عمر شیطان تم سے ڈرتا ہے۶؎ میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی پھر ابوبکر آئے وہ بجاتی رہی پھر علی آئے وہ بجاتی رہی پھر عثمان آئے وہ بجاتی رہی ۷؎ پھر اے عمر جب تم آئے تو اس نے دف پھینک دی۸؎ (ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ |
۱؎ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ وہ کون سا غزوہ تھا۔
۲؎ یہ نذر شرعی نہیں تھی کہ نذر شرعی میں ضروری ہے کہ جنس واجب سے ہو،دف بجانا اور گانا کہیں واجب نہیں۔نذر بمعنی نذرانہ عقیدت ہے ہرشخص اپنی حیثیت کے لائق ہی نذرانہ اس بارگاہ عالی میں پیش کرتا ہے اس لونڈی کے پاس یہ ہی نذرانہ تھا ؎
کچھ پاس نہیں میرے کیا نذر کروں تیرے اک ٹوٹا ہوا دل ہے اور گوشہ تنہائی
۳؎ ذکر بجانے کا ہے گانے کی اجازت بھی اس میں داخل ہے۔(مرقات)یعنی گاتے بجاتے اپنے دل کے ارمان پورے کرے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی سلامتی تشریف آوری پر خوشی منانا بہترین عبادت ہے اس لیے یہ نذر درست ہوئی،نذر عبادت کی ہوتی ہے۔(مرقات و اشعہ)گناہ کی نذر درست نہیں،حضورصلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں لا نذر فی معصیۃ۔(نسائی شریف)خیال رہے کہ جھانجھ کے ساتھ دف وغیرہ ممنوع ہے بغیر جھانجھ بلاضرورت کھیل کود کے لیے بھی ممنوع،غرض صحیح کے لیے دف تاشہ بجانا جائز ہے۔لہذا اعلان نکاح،روزے کے افطار یا سحری کے لیے یوں ہی غازیوں کے لیے دف بجانا جائز ہے، یہ دف جھانجھ سے اور لہو و لعب سے خالی تھی لہذا جائز تھی۔لونڈی پر نہ تو پردہ واجب ہے نہ اس کی آواز عورت ہے،اسے اجنبی شخص دیکھ بھی سکتا ہے اس کی آواز بھی سن سکتا ہے۔لہذا یہاں یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور نے اجنبی عورت کو کیوں دیکھا اور اس کی آواز کیوں سنی۔نہ اس سے مروجہ ناچ گانے پر دلیل پکڑی جاسکتی ہے کہ اب آزاد عورتیں بن سنور کر گاتی ہیں، یہ حرام قطعی ہے اس حدیث سے بہت لوگ دھوکہ کھاگئے ہیں۔
۴؎ یعنی وہ لونڈی ان حضرات میں سے کسی سے نہیں ڈری برابر دف بجاتی اور گیت گاتی رہی۔
۵؎ یہ ہیبت فاروقی تھی کہ اس بی بی نے وہ کام بند کردیا جو جائز بلکہ عبادت تھا مگر لہو و لعب کی صورت میں تھا،حضرت عمر کو دیکھ کر گھبرا گئی جیسے بعض ہیبت والے آدمیوں کو دیکھ کر بیٹھے ہوئے باتیں کرنے والے لوگ ادھرادھر ہوجاتے ہیں جگہ خالی کر جاتے ہیں حالانکہ وہاں انکا بیٹھنا باتیں کرنا حرام نہیں ہوتا لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اگر یہ کام جائز تھا تو حضرت عمر کو دیکھ کر اس بی بی نے بند کیوں کردیا اور اگر حرام تھا تو پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کیوں کیا۔مگر حضرات صوفیاء فرماتے ہیں کہ یہ کام ان حضرات کے لیے درست تھا حضرت عمر کے لیے درست نہ تھا اس لیے ان حضرات کے سامنے ہوتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع