30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی چونکہ اس محل میں تمہاری بی بی حورحین بھی تھی اس لیے ہم تمہاری غیرت کا خیال کرکے اندر نہ گئے ورنہ خیال تھا کہ اس کے ہر گوشہ میں گھوم پھر کر اس محل کا معائنہ فرماویں۔
۶؎ امام سیوطی نے اس کے ساتھ یہ الفاظ بھی روایت فرمائے ھل رفعنی الله الا بك وھل ھدانی الله الا بك مجھے اللہ نے آپ کے صدقہ تو یہ بلندی بخشی اور آپ ہی کے صدقہ سے ہدایت دی آپ میرے مائی باپ ہیں آپ پر کیا غیرت ؎
شکر فیض تو چمن چوں کند اے ابر بہار کہ اگر خارہ گر گل ہمہ پروردہ تست
برات کی ساری بہار دولہا کے دم قدم سے ہے۔
|
6038 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينَ» . |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب میں سورہا تھا تو میں نے لوگوں کو دیکھا وہ مجھ پر پیش کیے جارہے ہیں جن پر قمیض ہیں،بعض وہ ہیں جو پستان تک پہنچتی ہیں بعض اس سے بھی کم ۱؎ اور مجھ پر عمر ابن خطاب پیش کیے گئے اس حال میں کہ ان پر وہ قمیض ہے جسے وہ کھینچ رہے ہیں۲؎ لوگوں نے کہا یارسول اللہ اس کی کیا تعبیر لی فرمایا دین۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ دون ذلك میں دو احتمال ہیں: اس سے کم یا اس سے نیچے۔دوسرے معنی کی تائید وہ روایت کرتی ہے کہ بعض کی قمیض ناف تک تھی،بعض کی گھٹنے تک،بعض کی آدھی پنڈلی تک یہ حضور کا خواب ہے اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے جس پر شرعی احکام جاری ہوتے ہیں"یٰبُنَیَّ اِنِّیۡۤ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیۡۤ اَذْبَحُکَ"۔
۲؎ یعنی حضرت عمر کی قمیض ان کے قدموں سے نیچے تھی جو ان کے چلنے پر گھسٹ رہی تھی۔
۳؎ حضور انور نے لباس کی تعبیر دین سے فرمائی کیونکہ لباس تو بدن کا ستر اور زینت ہے اور دین دل و جان کا ستر بھی ہے زینت بھی۔اس خواب اور نبوی تعبیر سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر نہایت ہی کامل الایمان قوی دین والے ہیں،اگر ہم جیسے گنہگاروں پر جناب فاروق کی نظر کرم ہوجائے تو ہمارے دین و ایمان کامل سے کامل تر ہوجائیں رضی اللہ عنہ۔ غالب یہ ہے کہ ان پیش ہونے والوں میں حضرت ابوبکر صدیق نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ دین یا ایمان کی مقدار میں زیادتی کمی نہیں ہوتی یعنی کوئی آدھا یا چوتھائی مسلمان نہیں ہوتا سارے پورے مؤمن ہوتے ہیں،ہاں کیفیت میں فرق ہوتا ہے،بعض مؤمن،بعض کامل مؤمن،بعض اکمل یعنی کامل تر مؤمن "وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیۡ"۔
|
6039 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمَ» . |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جب ہم سو رہے تھے تو ہمارے پاس ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے پی لیا ۱؎ حتی کہ میں نے دیکھا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۲؎ پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر ابن خطاب کو دے دیا لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اس کی تعبیر کیا دی فرمایا علم۳؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع