30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۰؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ لوگ زکوۃ کی فرضیت کے منکر ہوگئے لہذا مرتد ہوگئے تھے کہ فرض کا انکار کفر ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ ظاہری مال زکوۃ سلطان اسلام کو ادا کرنے کے منکر ہوگئے ہوں تو باغی ہوئے دونوں سے قتل جائز ہے۔اس کی تحقیق کتاب الزکوۃ میں گزر گئی وہاں کہا گیا ہے کہ اب مال باطن سونا چاندی اور مال ظاہری جانور وغیرہ سب کی زکوۃ خود مال والا ہی دے سلطان کو نہ دے۔
۱۱؎ عقال عین کے کسرہ سے بمعنی رسی بھی آتا ہے اور بمعنی بکری کا بچہ بھی یہاں دونوں احتمال ہیں،بعض روایات میں بجائے عقال کے عناق آیا ہے بمعنی بکری کا بچہ۔مقصود یہ ہے کہ اگر معمولی زکوۃ بھی ہم کو سپرد نہ کریں تو ان پر جہاد ہوگا۔
۱۲؎ یعنی ان پر جہاد نہ کریں بلکہ کچھ ڈھیل دیں اورنرمی سے انہیں سمجھادیں حضرت علی بلکہ تمام صحابہ نے حضرت صدیق اکبر سے یہ ہی عرض کیا وہ بولے کہ حضور انور صاحب معجزات تھے مگر آپ نے تئیس سال میں احکام شرعیہ جاری فرمائے ہم یک دم کیسے جاری کرسکتے ہیں،آپ نے کسی کی بات نہ مانی اور حضرت فاروق اعظم کو جواب دیا جو یہاں مذکور ہے۔(حاشیہ اشعۃ اللمعات)
۱۳؎ یہ ہے حضرت ابوبکر صدیق کی قوتِ ایمانی کہ دین کے معاملہ میں کسی کی مخالفت کی پرواہ نہیں۔
۱۴؎ یعنی اپنے جیتے جی اسلام میں کوئی رخنہ نہیں پڑنے دوں گا میرے بعد اللہ حافظ ہے۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے زمانہ جاہلیت میں کبھی کفر وشرک نہیں کیا۔مرقات میں بحوالہ معال العرش الحبیب روایت نقل فرمائی کہ ایک دن ابوبکر صدیق نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یارسول اللہ میں نے کبھی کسی بت کو سجدہ نہیں کیا ایک بار مجھے میرے باپ ابوقحافہ ایک بت کے سامنے لے گئے اور کہا یہ ہے ہمارا رب اسے سجدہ کر،باپ کسی کام کو گئے میں نے بت سے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے،میں ننگا ہوں مجھے کپڑا دے،پھر میں نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا اگر تو خدا ہے تو میری مار سے اپنے کو بچالے،یہ کہہ کر میں نے اسے اس پتھر سے توڑ دیا میرے باپ نے آکر یہ دیکھا تو بولے یہ کیا،میں نے کہا دیکھ لو اپنے خدا کا حال جو میری مار سے نہ بچ سکا،میرے باپ نے یہ شکایت میری ماں سے کی وہ بولیں کہ میں نے صدیق کی پیدائش کے وقت ایک غیبی آواز سنی کہ اے اللہ کی بندی بشارت ہو اس بچے کی جو عتیق ہے،رسول اللہ کا رفیق ہے،آسمان میں اس کا نام صدیق۔(مرقات یہ ہی مقام) جب حضرت صدیق حضور کو یہ واقعہ سنا چکے تو حضرت جبریل نازل ہوئے اور فرمایا صدیق سچ کہہ رہے ہیں۔(مرقات)
۱۵؎ یہ حدیث نسائی نے بدین الفاظ نقل کی اور بخاری مسلم نے اس کے معنی روایت کئے۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع