30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6033 -[15] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَرَانِي بَابَ الْجَنَّةِ الَّذِي يَدْخُلُ مِنْهُ أُمَّتِي» فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ مَعَكَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا إِنَّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس جناب جبریل آئے میرا ہاتھ پکڑا پھر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہوگی ۱؎ جناب ابوبکر نے کہا یارسول اللہ میری آرزو ہے کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا۲؎ حتی کہ اسے دیکھتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم وہ شخص ہو جو میری امت میں سے سب سے پہلے جنت میں جائے گا۳؎(ابوداؤد) |
۱؎ غالبًا یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے یا کسی اور وقت کا۔(اشعۃ اللمعات)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور کی امت کے داخلہ کے لیے جنت میں علیحدہ دروازہ بنایا گیا ہے وہاں بھی امتیازی شان اس امت کی ہے یہ سب حضور کے صدقے سے ہے۔
۲؎ سبحان الله! کیسی پیاری تمنا ہے یعنی جب حضور وہ دروازہ دیکھنے گئے تو کاش میں بھی حضور کے ساتھ ہوتا اور وہ دروازہ دیکھتا۔
۳؎ یعنی اے ابوبکر اللہ نے تمہارے لیے اس سے اعلیٰ درجہ رکھا ہے وہ یہ کہ میری امت میں سب سے پہلے تم جنت میں جاؤ گے تمہارے بعد دوسرے لوگ۔خیال رہے کہ سب سے پہلے جنت میں حضور انور تشریف لے جائیں گے،پھر سارے نبی،پھر حضور انور کی امت،پھر دوسرے نبیوں کی امتیں اور اس امت میں سب سے پہلے ابوبکر صدیق تو لازم آیا کہ بعد انبیاء سب سے پہلے جناب صدیق اکبر جنت میں جائیں گے۔اس سے پتہ لگا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق بعد انبیاء ساری مخلوق سے افضل ہیں بعد انبیاء سب سے پہلے جنت میں داخلہ آپ کا ہی ہوگا۔
نوٹ ضروری: جنت میں ساری مخلوق سے پہلے حضرت بلال جائیں گے اس طرح کہ حضور کے داخلہ کے وقت آگے آگے بلال ہوں گے ہٹو بچو کرتے ہوئے جیسے غلام شاہوں کے آگے چلتے ہیں خادمانہ شان سے۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اے بلال تم کونسی نیکی کرتے ہو کہ میں نے جنت میں تمہارے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی وہاں وہ ہی آہٹ سنائی گئی جو قیامت کے بعد جنت کے داخلہ کے وقت حضور کے آگے آگے چلنے کی ہوگی مگر وہ خدمت گاری کی حیثیت ہے،جزا والا داخلہ پہلے وہاں حضرت ابوبکر صدیق کو میسر ہوگا لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔حضرت ادریس علیہ السلام جنت میں پہلے ہی پہنچے ہوئے ہیں یا آدم علیہ السلام پہلے وہاں رہ کر آئے ہیں مگر وہ داخلہ جزا کے لیے نہیں۔
|
6034 -[16] عَن عمر ذُكِرَ عِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَبَكَى وَقَالَ: وَدِدْتُ أَنَّ عَمَلِي كُلَّهُ مِثْلُ عَمَلِهِ يَوْمًا وَاحِدًا مِنْ أَيَّامِهِ وَلَيْلَةً وَاحِدَةً مِنْ لَيَالِيهِ أَمَّا لَيْلَتُهُ فَلَيْلَةٌ سَارَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْغَار فَلَمَّا انتهينا إِلَيْهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَا تَدْخُلُهُ حَتَّى أَدْخُلَ قَبْلَكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ شَيْءٌ أَصَابَنِي دُونَكَ فَدَخَلَ فَكَسَحَهُ وَوَجَدَ فِي جَانِبِهِ ثُقْبًا فَشَقَّ إزَاره وسدها بِهِ وَبَقِي مِنْهَا اثْنَان فألقمها رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْخُلْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ رَأسه فِي حجره وَنَامَ فَلُدِغَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِجْلِهِ مِنَ الْجُحر وَلم يَتَحَرَّك مَخَافَة أَن ينتبه رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَقَطَتْ دُمُوعُهُ عَلَى وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟» قَالَ: لُدِغْتُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي فَتَفِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ مَا يَجِدُهُ ثُمَّ انْتَقَضَ عَلَيْهِ وَكَانَ سَبَبَ مَوْتِهِ وَأَمَّا يَوْمُهُ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ وَقَالُوا: لَا نُؤَدِّي زَكَاةً. فَقَالَ: لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا لَجَاهَدْتُهُمْ عَلَيْهِ. فَقُلْتُ: يَا خَلِيفَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَأَلَّفِ النَّاسَ وَارْفُقْ بِهِمْ. فَقَالَ لِي: أَجَبَّارٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَخَوَّارٌ فِي الْإِسْلَامِ؟ إِنَّهُ قَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَتَمَّ الدِّينُ أَيَنْقُصُ وَأَنا حَيّ؟ . رَوَاهُ رزين |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ ان کے پاس حضرت ابوبکر کا ذکر کیا گیا تو آپ روئے اور بولے کہ میری آرزو یہ ہے کہ میرے سارے عمل حضرت ابوبکر کے ایک دن کے اور ایک رات کے عمل کی طرح ہوتے۱؎ آپ کی رات وہ رات ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار کی طرف پہنچے تو جب وہ دونوں اس غار تک پہنچے عرض کیا واللہ آپ اس میں داخل نہ ہوں حتی کہ آپ سے پہلے میں داخل ہوجاؤں اگر اس میں کوئی چیز ہوتو مجھے پہنچے نہ کہ آپ کو تو آپ داخل ہوئے اسے صاف کیا۲؎ اور اس کے ایک کنارہ میں سوراخ پایا آپ نے تہبند پھڑا اس سے سوراخ بندکیا سے ان میں سے دو سوراخ رہ گئے ان میں اپنے پاؤں دیدیئے۳؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ تشریف لائیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا سر آپ کی گود میں رکھا اور سو گئے۴؎ ابوبکر کے پاؤں میں سوراخ سے ڈس لیا گیا۵؎ آپ نے بالکل جنبش نہ کی اس ڈر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگ پڑیں۶؎ پھر آپ کے آنسو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر گرے۷؎ تو فرمایا اے ابوبکر کیا ہوا عرض کیا آپ پر میرے ماں باپ فدا میں تو ڈس لیا گیا تب رسول اللہ نے اپنا لعاب لگادیا تو وہ تکلیف جاتی رہی۸؎ جو وہ پاتے تھے پھر وہ زہر لوٹ آیا اور آپ کی وفات کا سبب بنا ۹؎ لیکن آپ کا دن تو جب رسول اللہ نے وفات پائی اہلِ عرب مرتد ہوگئے اور بولے کہ ہم زکوۃ نہ دیں گے۱۰؎ تو فرمایا کہ اگر مجھے ایک رسی کا انکار کریں گے تو میں ان پر جہاد کروں گا ۱۱؎ میں نے عرض کیا کہ اے رسول اللہ کے خلیفہ لوگوں پر موافقت کریں اور ان پر نرمی کیجئے۱۲؎ تو مجھ سے فرمایا کہ تم جاہلیت میں سخت تھے۱۳؎ اور اسلام میں نرم،وحی بند ہوچکی اور دین مکمل ہوچکا کیا دین میں کمی کی جاوے گی حالانکہ میں زندہ ہوں۱۴؎ (رزین)۱۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع