دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

چاہتے تھے حضور انور کے خلافت نامہ نہ لکھنے میں بھی آئندہ مسلمانوں کو تعلیم تھی کہ خلیفہ کا چناؤ اس طرح بھی ہوسکتا ہے یعنی ووٹ کے ذریعہ۔

6022 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ فَأَمَرَهَا أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جِئْتُ وَلَمْ أَجِدْكَ؟ كَأَنَّهَا تُرِيدُ الْمَوْتَ. قَالَ: «فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ».

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ سلم کے پاس ایک عورت آئی اس نے کسی چیز کے متعلق حضور سے بات کی۲؎  تو اسے حضور نے دوبارہ حاضری کا حکم دیا وہ بولی یارسول اللہ فرمائیے تو اگر میں آؤ ں اور آپ کو نہ پاؤں شاید اس کی مراد موت تھی۳؎ فرمایا اگر تومجھے نہ پائے تو ابو بکر کے پاس آجانا۴؎ (مسلم،بخاری)

۱؎  آپ قرشی ہیں،نوفل ابن عبدمناف کی اولاد سے،آپ کا نام جبیر ہے،کنیت ابو محمد،فتح مکہ سے ایک سال پہلے خیبر کی فتح پر ایمان لائے حضرت ابو بکر صدیق کے شاگرد تھے۔

۲؎  یا تو کوئی مقدمہ پیش کیا فیصلہ کے لیے یا حضور سے کچھ مانگا یا کوئی مسئلہ پوچھا پہلا احتمال قوی ہے۔کسی مقدمہ میں حاکم کا تاریخ دینا جائز ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے حضور نے اسے کل کی تاریخ دی۔

۳؎ یہ واقعہ حضور کی وفات شریف سے قریب کا ہے اس بی بی کا مطلب یہ تھا کہ اگر حضور کل سے پہلے وفات پاجائیں تو کس سے فیصلہ کراؤں۔

۴؎ یعنی اگر میری وفات ہوجاوے تو ابوبکر صدیق سے اپنا فیصلہ کرا لینا،اس فرمان عالی میں حضرت صدیق اکبر کی خلافت کی طرف اشارہ ہے۔

6023 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» . قُلْتُ: مِنِ الرِّجَالِ؟قَالَ:«أَبُوهَا».قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «عُمَرُ». فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرهم.

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ذات سلاسل کے لشکر پر امیر بنا کر بھیجا ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں حضورکے پاس آیا میں نے کہا لوگوں میں آپ کو زیادہ پیارا کون ہے فرمایا عائشہ میں نے کہا مردوں میں فرمایا ان کے والد ۲؎ میں نے عرض کیا پھر کون فرمایا عمر پھر حضور نے چند حضرات گنائے تو میں چپ ہوگیا اس خوف سے کہ مجھے ان سب کے آخر میں کردیں۳؎ (مسلم، بخاری)

۱؎  ذات سلاسل مدینہ منورہ سے دس روز کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے یا تو یہاں مشرکین نے مسلمانوں کے مقابلہ میں اپنے کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا تاکہ بھاگ نہ سکیں،یا وہاں ایک کنویں کا نام سلاسل ہے جیسے آج خیبر کے راستہ میں ایک منزل کا نام سلسلہ ہے یا وہاں کا ریتہ زنجیروں کی طرح ہے ان وجوہ سے اسے ذات سلاسل کہتے ہیں۔پہلے حضور نے حضرت عمرو ابن عاص کو تین سو صحابہ پر امیر بنا کر وہاں بھیجا انہوں نے حضور سے کمک طلب کی تو ایک اور جماعت صحابہ بھیجی جس میں حضرت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن