30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آن امن الناس برمولائے ما آں کلیمے اول سیناما
مسجد نبوی شریف کی اصل زمین حضرت ابوبکر صدیق نے دس دینار میں خرید کر وقف کی(ابن ماجہ کا حاشیہ ص ۵۴)بعد میں حضرت عثمان نے آس پاس کی زمین خرید کر ملحق کی۔
۲؎ خلیل یا تو بنا ہے خلت خ کے پیش سے بمعنی دلی دوست جس کی محبت دل کی گہرائی میں اتر جاوے،حضور کا ایسا محبوب صرف اللہ ہی ہے،یا بنا ہے خلت خ کے فتحہ سے بمعنی حاجت یعنی وہ دوست جس پر توکل کیا جاوے اور ضرورت کے وقت اس سے مشکل کشائی حاجت روائی کرائی جاوے،حضور انور کا ایسا کار ساز حاجت روا محبوب سواء خدا کے کوئی نہیں ورنہ اصل محبت حضور کو جنا ب صدیق سے بہت ہی ہے۔
۳؎ یعنی ہم مطلقًا محبت کی نفی نہیں کر رہے ہیں محتاجی حاجت روائی کی محبت کی نفی ہے یا جگری و دلی محبت کی جو صرف ایک سے ہی ہوسکتی ہے،ایمانی محبت ان سے علی وجہ الکمال ہے۔خیال رہے کہ حضرت صدیق نے کبھی حضور کو بھائی کہہ کر پکارا نہیں کہ یہ حرام ہے"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"الخ۔
۴؎ خوخۃ بمعنی کھڑکی یا بمعنی چھوٹا دروازہ۔جن صحابہ کرام کے مکانات مسجد کے متصل تھے انہوں نے اپنے گھروں کی دیواروں میں مسجد کی طرف روشندان اور چھوٹے دروازے رکھے تھے کہ روشندانوں سے حضور کو دیکھ لیا کریں اور آسانی سے مسجد میں آتے جاتے رہیں ان سب کے بند کردینے کا حکم دیا سواء صدیق اکبر کے دروازے کے۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کے دو گھر تھے ایک مسجد شریف سے متصل دوسرا مقام سخ میں۔یہ اس کھڑکی کا ذکر ہے جو مسجد سے ملے ہوئے مکان میں تھی،اب باب الصدیق اس مکان کی یادگار ہے لہذا مرقات کا یہ فرمانا کہ آپ کا گھر تو مقام سخ میں تھا پھر کھڑکی مسجد نبوی کی طرف کیسی اور اس کی تاویل خلافت سے کرنا کچھ قوی نہیں۔
۵؎ خیال رہے کہ آپ کا نام عبداللہ ہے اور کنیت ابوبکر ہے،ابو کے معنی ہیں والا جیسے ابوہریرہ بلی والے،بکر کے معنی ہیں اولیت، اسی سے ہے بکرہ باکرہ اور باکور،ابوبکر کے معنی ہوئے اولیت والے۔چونکہ آپ ایمان ہجرت حضور کی وفات کے بعد وفات میں اور قیامت کے دن قبر کھلنے وغیرہ سب کاموں میں آپ ہی اول ہیں اس لیے آپ کو ابوبکر کہا گیا رضی اللہ عنہ۔یہ بھی خیال رہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد حضور نے حضرت علی کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا کہ مسجد میں صرف علی کی کھڑکی رہے جس پر جناب حمزہ نے شکایت کی تھی کہ یارسول اللہ آپ نے اپنے چچا کو تو اس کی اجازت نہیں دی اور چچا زاد بھائی کو اجازت دے دی،فرمایا کہ میں نے نہیں حکم دیا بلکہ یہ حکم الٰہی ہے اور حضرت صدیق اکبر کو یہ اجازت وفات شریف سے تین دن پہلے دی ہے جو یہاں مذکور ہے۔(اشعۃ اللمعات)مرقات میں بھی اس کے قریب قریب ہے۔
|
6020 -[2] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنَّهُ أَخِي وَصَاحِبِي وَقَدِ اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَكُمْ خَلِيلًا» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا اگر میں کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو دوست بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں اور اللہ نے تمہارے صاحب کو دوست بنایا ۱؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع