30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مناقب جمع ہے منقبۃ کی بمعنی فضیلت و بزرگی۔حضرت ابوبکر صدیق کا نسب شریف یہ ہے عبداللہ(ابوبکر)ابن عثمان (ابو قحافہ)ابن عامر ابن عمرو ابن کعب ابن سعد ابن تمیم ابن مرہ۔آپ ساتویں دادا یعنی مرہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے ہیں، آپ کا لقب صدیق ہے،کنیت عتیق،معراج کی صبح کو حضور کی معراج کی شاندار تصدیق کی وجہ سے آپ کو صدیق کہا گیا اور حضرت بلال کو آزاد کرنے پر آپ کا لقب عتیق یعنی دوزخ سے آزاد یا لوگوں کو آزاد کرنے والے۔آپ کے فضائل آسمان کے تاروں،زمین کے ذروں کی طرح بے شمار ہیں،بعد انبیاءکرام آپ ہی افضل الخلق ہیں،آپ اسلام کے بعد کبھی حضور انور سے جدا نہ ہوئے،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،سب سے پہلے آپ ہی اسلام لائے،سفید رنگ دراز قد دبلے بدن والے،چوڑی پیشانی تھے،آپ اور آپ کے ماں باپ آپ کی ساری اولاد اور آپ کی اولاد کی اولاد صحابی ہیں یہ شرف کسی کو نصیب نہیں ہوا،مکہ معظمہ میں آپ کی پیدائش واقعہ فیل سے دو سال چار ماہ بعد ہوئی اور جمادی الآخر کی بائیس تاریخ منگل کی شب ۱۳ھ میں مغرب و عشاء کے درمیان مدینہ منورہ میں آپ کی وفات ہوئی،بلافصل حضور کے پہلو میں آرام فرما ہیں،دو سال چار ماہ خلافت کا زمانہ ہے،۶۳ تریسٹھ سال عمر شریف ہوئی رضی اللہ عنہ۔
|
6019 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ - وَعِنْدَ الْبُخَارِيِّ أَبَا بَكْرٍ - وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ وَمَوَدَّتُهُ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةَ أَبِي بَكْرٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا غَيْرَ رَبِّي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا» . |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ سارے انسانوں میں مجھ پر بڑا احسان کرنے والے اپنی صحبت اپنی محبت و مال میں ابوبکر ہیں ۱؎ اور بخاری کے نزدیک ابابکر ہے اور اگر میں کسی کو دلی دوست بناتا تو میں ابوبکر کو دوست بناتا۲؎ لیکن اسلام کا بھائی چارا اور اس کی دوستی ہے۳؎ مسجد میں کوئی کھڑکی نہ رکھی جاوے سواء ابوبکر کی کھڑکی کے۴؎ دوسری روایت میں یوں ہے کہ اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابو بکر کو دوست بناتا۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا مال جان،اولاد وطن سب کچھ حضور پر قربان کردیا،غار ثور میں ہجرت کی رات اپنی جان حضور پر فدا کی کہ سانپ سے کٹوا لیا،اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ کا نکاح حضور انور سے کیا جب آپ کی عمر چھ سال تھی اور حضور کی عمر ۴۵ سال حالانکہ آپ جانتے تھے کہ جب حضور کا وصال ہوگا تو حضرت عائشہ عین جوانی میں ہوں گی،آپ کے بعد نہ آپ کو میراث ملے گی نہ آپ کا نکاح کسی سے ہوسکے گا،یہ ہے اولاد کی قربانی۔جس وقت آپ ایمان لائے تو چالیس ہزار دینار اشرفیاں آپ کے پاس تھیں جو سب حضور پر خرچ کیں،وفات کے وقت کفن کے لیے کپڑا بھی نہ تھا پرانے کپڑوں میں کفن دیا گیا،حضور نے فرمایا کہ صدیق کا احسان مجھ پر بڑا ہے ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع