دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6018 -[12]

وَعَن عمر بن الْخطاب قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"سَأَلْتُ رَبِّي عَنِ اخْتِلَافِ أَصْحَابِي مِنْ بَعْدِي فَأَوْحَى إِلَيَّ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّ أَصْحَابَكَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ النُّجُومِ فِي السَّمَاءِ بَعْضُهَا أَقْوَى مِنْ بَعْضٍ وَلِكُلٍّ نُورٌ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِمَّا هُمْ عَلَيْهِ مِنِ اخْتِلَافِهِمْ فَهُوَ عِنْدِي عَلَى هُدًى " قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ فَبِأَيِّهِمُ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ» . رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں نے اپنے رب سے اپنے صحابہ کے اختلاف کے متعلق سوال کیا جو میرے بعد ہوگا ۱؎  تو مجھے وحی فرمائی کہ اے محمد تمہارے صحابہ میرے نزدیک آسمان کے تاروں کی طرح ہیں کہ ان کے بعض بعض سے قوی ہیں اور سب میں نور ہے تو جس نے ان کے اختلاف میں سے کچھ حصہ لیا جس پر وہ ہیں تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۲؎  فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ تاروں کی طرح ہیں تو تم ان میں سے جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۳؎ (رزین)

۱؎  یہاں اختلاف سے اجتہادی علمی و عملی اختلاف مراد ہے،اس میں غیبی خبر ہے کہ میرے صحابہ میں اختلاف ہوں گے۔خیال رہے کہ صحابہ کرام کی آپس کی جنگیں اختلاف کی بنا پرتھیں نہ کہ عداوت کی بنا پر جیسے حضرت سارہ اورجناب ہاجرہ کا اختلاف یا جیسے برادرانِ یوسف علیہ السلام کا حضرت یوسف علیہ السلام سے اختلاف،اس کا انجام بخیر ہوتا ہے ہم کسی کو برا نہ کہیں اس کے باوجود وہ ایک دوسرے پر رحیم و کریم تھے،رب فرماتاہے"رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْاس فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ یہاں اختلاف سےمراد فقہی مسائل میں اختلاف ہے۔جو شخص کسی صحابی کے فتویٰ پر عمل کرے گا نجات پاجاوے گا،آئمہ دین جیسے امام اعظم اور امام شافعی وغیرہم صحابہ ہی کے مقلد ہیں،امام اعظم حضرت عبداللہ ابن مسعود کے اور امام شافعی حضرت عبداللہ ابن عباس کے اکثر مسائل میں تابع ہیں دونوں ہدایت پر ہیں۔

۳؎  سبحان الله! کیسی نفیس تشبیہ ہے حضور نے اپنے صحابہ کو ہدایت کے تارے فرمایا اور دوسری حدیث میں اپنے اہلِ بیت کو کشتی نوح فرمایا،سمندر کا مسافر کشتی کا بھی حاجت مند ہوتا ہے اور تاروں کی رہبری کا بھی کہ جہاز ستاروں کی رہنمائی پر ہی سمندر میں چلتے ہیں،اسی طرح امتِ مسلمہ اپنی ایمانی زندگی میں اہلِ بیت اطہار کے بھی محتاج ہیں اورصحابہ کبار کی بھی حاجت مند۔امت کے لیے صحابہ کی اقتداء میں ہی اہتداء یعنی ہدایت ہے۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن