30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6013 -[7] وَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي أَو رأى من رَآنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا میرے دیکھنے والے کو دیکھا ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی جس نے بحالت ایمان مجھے دیکھا اور ایمان پر ہی اس کا خاتمہ ہوا وہ دوزخ سے محفوظ رہے گا لہذا جو لوگ حضور انور کے بعد مرتد ہوکر مرے وہ اس بشارت سے علیحدہ ہیں،یوں ہی جن لوگوں کو اخلاص سے صحابہ کرام کی صحبت نصیب ہوئی ان کی خدمات میسر ہوئیں وہ بھی دوزخ سے محفوظ ہیں۔ہم صحابیت اور تابعی کا فرق پہلے بیان کرچکے ہیں کہ صحابی کے لیے ایک نظر جمال مصطفوی دیکھ لینا کافی ہے مگر تابعیت کے لیے صحابی کی صحبت خدمت ضروری ہے۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک اعمال کرنے برے اعمال سے بچنے یا ان سے توبہ کرنے کی توفیق دے گا جس سے وہ دوزخ سے بچ جائیں گے۔ عوام میں مشہور ہے کہ جو پاک پتن شریف میں حضرت بابا گنج شکر فرید الدین کے مقبرہ کے بہشتی دروازے میں داخل ہو جاوے وہ جنتی ہے وہاں بھی مطلب یہ ہے خدا تعالٰی اسے جنتی اعمال کی توفیق دے گا اور اس دروازے میں داخلہ کی برکت سے گزشتہ گناہ صغیرہ معاف فرما دے گا،گناہ کبیرہ سے بچنے کی توفیق دے گا،رب فرماتاہے:"ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْ"یہ مطلب نہیں کہ ان لوگوں کے لیے گناہ حلال ہوگئے۔مولانا فرما تے ہیں ؎
گفت طوبی من رانی مصطفی والذی بصیر لمن وجہی یراے
جن اکھیاں نے دلبرد دیکھیا اوہ اکھیا تک لیاں توں ملیوں تے ساجن ملیا ہن آسان لگ گیاں
حضور کو دیکھنے والی آنکھ کی زیارت بھی بہشتی ہونے کا ذریعہ ہے۔احمد اور ابن حبان نے اور عبدالحمید نے بروایت حضرت ابن عمر حدیث نقل فرمائی و طوبی لمن رانی امن بی و طوبی لمن لم یرانی و امن سبع مرات(مرقات)جو مجھے دیکھ کر مجھ پر ایمان لائے اسے ایک بار مبارک اور جو مجھے بغیر دیکھے ایمان لائے اسے سات بار مبارک۔خیال رہے کہ سارے صحابہ جنتی ہیں مگر عشرہ مبشرہ وہ ہیں جنہیں ایک حدیث نے جمع فرمایا ورنہ سارے صحابہ جنتی ہیں عشرہ مبشرہ یہ ہیں:
وہ یار بہشتی اند قطعی بوبکر و عمر علی و عثمان
سعد است و سعید و بوعبیدہ طلحہ زبیر و عبدالرحمن
|
6014 -[8] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مغفل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میرے صحابہ کے متعلق اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ۱؎ اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللہ اسے پکڑے۲؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع