30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ عجب سے مراد ہے ان حضرات کا ان انبیاءکرا م کے درجات عالیہ پر تعجب و حیرت کرنا اور انہیں افضل سمجھنا،وجہ فضیلت میں گفتگوکرنا۔
۹؎ نجی بنا ہے نجوی سے بمعنی تنہائی میں خفیہ بات کرنا یعنی سرگوشی۔چونکہ موسیٰ علیہ السلام رب تعالٰی سے طور پر بالکل تنہائی میں کلام کرتے تھے اس لیے آپ کو نجی الله فرمایا،آپ کا لقب کلیم الله بھی ہے اور نجی الله بھی۔
۱۰؎ سبحان الله! یہ ہے حضور انور کا انصاف والا کلام کسی کی شان کا انکار نہیں فرماتے بلکہ ان حضرات کی یہ شانیں حضور انور نے ہی دنیا کو بتائیں اور ان کے اوصاف عالم میں مشہور کیے۔جس پیغمبر کی جتنی شانیں حضور نے مشہور فرمادیں ان کی صرف اتنی ہی شانیں مشہور ہوئیں،جس نبی کا نام نہ بتایا ان کے نام دنیا سے گم ہوگئے،جن کے اوصاف کا ذکر نہ کیا ان کے اوصاف گم ہوکر رہ گئے۔
مصرع شان یوسف جو بڑھی وہ بھی اس در سے بڑھی
۱۱؎ یعنی میں ان تمام مذکورہ صفات کا جامع ہوں کیونکہ الله کا حبیب ہوں،میں خلیل بھی ہوں،کلیم بھی،مشرف بھی ہوں اس کے ساتھ حبیب بھی ہوں۔(مرقات)خیال رہے کہ خلیل و حبیب میں چند طرح فرق ہے: (۱)خلیل بنا ہے خلت سے بمعنی حاجت،حبیب بنا ہے حب سے یعنی محبت بمعنی اسم فاعل بھی ہے اور اسم مفعول بھی یعنی محب و محبوب۔خلیل وہ جو رب سے محبت کرے حاجت سے،حبیب وہ جو رب سے محبت کرے بغیرکسی حاجت کے یعنی طالب ذات ہو(۲)خلیل وہ جو مرید ہو طالب ہو،حبیب وہ جو مراد ہو،مطلوب ہو،مجذوب ہو(۳)خلیل وہ جو رب کی رضا چاہے،حبیب وہ کہ رب تعالٰی اس کی رضا چاہے"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی"اور"فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰىہَا"(۴)خلیل وہ جو رب کی مغفرت و رحمت کا امیدوار ہو،حضرت ابراہیم نے کہا تھا"اَطْمَعُ اَنۡ یَّغْفِرَ لِیۡ"،حبیب وہ کہ رب تعالٰی اسے اپنی رحمت کا یقین دلائے"لِیَغْفِرَ لَکَ اللہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ"
(۵) خلیل وہ جو اپنا ذکر خیر باقی رکھنے کی درخواست کرے"وَاجْعَلۡ لِّیۡ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الۡاٰخِرِیۡنَ"،حبیب وہ جس کا ذکر رب تعالٰی بلند کرے"وَ رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ"بلکہ اپنے نام کے ساتھ ان کا نام ملائے(۶)خلیل وہ جو رب سے جنت مانگے"وَاجْعَلْنِیۡ مِنۡ وَّ رَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیۡمِ"،حبیب وہ جسے رب جنت دوزخ بلکہ عالم کثرت کا مالک بنادے"اِنَّاۤ اَعْطَیۡنٰکَ الْکَوْثَرَ"۔ (مرقات) (۷)کلیم وہ جو رب سے کلام کرنے طور پر جائے،حبیب وہ جسے رب کلام کرنے کے لیے عرش پر بلائے(۸)خلیل وہ جو باہر کا دوست ہو،حبیب وہ جو درون سرا ہو۔چنانچہ قیامت میں حضرت خلیل فرمائیں گے کنت خلیلا من وراء ؎
تم تو ہو مغز اور پوست اور ہیں باہر کے دوست تم ہو درون سرا تم پہ کروڑوں درود
(۹)کلیم وہ جو تجلی صفات کی جھلک کی تاب نہ لائے"وَ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا"،حبیب وہ جو عین ذات کبریا دیکھے اور مسکرائے ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع