30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ستر تک اور زمانہ تبع تابعین ۱۷۰ سے ۲۲۰ دو سوبیس تک،اس کے بعد مسلمانوں میں بڑے فتنے تفرقہ بازیاں شروع ہو گئیں۔معتزلہ،فلاسفہ،جہیمہ وغیرہ فرقے بعدہی کی پیداوار ہیں بدعات کا زور بعد ہی میں ہوا۔
۳؎ اس فرمان عالی کے بہت مطالب بیان کیے گئے ہیں مگر آسان اور قوی مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ واردات کے موقعہ پر موجود نہ کیے گئے ہوں گے بلائے نہ گئے ہوں گے مگر قاضی کے ہاں گواہی دیں گے یعنی جھوٹی گواہی جیساکہ آج کل دیکھاجارہا ہے کہ کچہریوں میں لوگ مقدمہ والوں سے پوچھتے پھرتے ہیں کہ کیا تمہیں گواہ چاہئیں تو ہم حاضر ہیں اتنے روپیہ دو جو بتاؤ اس کی گواہی دے دیں لہذا یہ فرمان عالی اس حدیث کے خلاف نہیں کہ اچھے گواہ وہ ہیں جو بغیر بلائے گواہی دیں وہاں سچی گواہی مراد ہے۔
۴؎ یعنی وہ لوگ امین نہ ہوں گے خائن ہوں گے یا وہ لوگ خائن ہوں گے انہیں کوئی امین نہ بنائے گا،اپنی امانت ان کے سپرد نہ کرے گا جانتا ہوگا کہ یہ خائن ہے۔
۵؎ یعنی مانی ہوئی نذریں پوری نہ کریں گے۔معلوم ہوا کہ نذر پوری کرنا بڑا ضروری ہے،رب فرماتاہے:"یُوۡفُوۡنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوۡنَ یَوْمًا کَانَ شَرُّہٗ مُسْتَطِیۡرًا"۔خیال رہے کہ زیادہ نذریں ماننا اچھا نہیں مگر مانی ہوئی نذر کا پورا کرنا بہت ضروری ہے یہ شرعی نذر کا حکم ہے،لغوی نذر جو اولیاء اللہ کے نام کی ہو اس کا پوراکرنا بہتر ہے فرض نہیں جیسے میلاد شریف یا گیارہویں شریف کی نذریں ماننا،اس کی بحث ہماری کتاب جاء الحق میں دیکھو۔یعنی وہ لوگ بہت عیش و آرام میں رہیں گے کام کاج کریں گے نہیں جس سے موٹے ہوجائیں گے،انہیں موٹا ہونا بہت پسند ہوگا قدرتی موٹاپے کا یہاں ذکر نہیں ہے،یا یہ مطلب ہے کہ جھوٹی شیخی مارا کریں گے،یا یہ مطلب ہے کہ بہت مالدار ہوناپسند کریں گے تاکہ موٹے تازے رہیں۔ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ موٹے عالم کو پسند کرتا ہے وہاں بھی موٹاپے سے یہ ہی احتمالات ہیں۔(مرقات)
۶؎ یعنی بہت قسم کھانے کے عادی ہوں گے بلاوجہ قسمیں کھایا کریں گے جیساکہ اب بھی بعض لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ قسم پہلے بات پیچھے،یا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگ بے اعتبار جھوٹے ہوں گے اپنا اعتبار دلانے کے لیے بات بات پرقسم کھایا کریں گے پھر بھی لوگوں کو ان کا اعتبار نہ ہوگا۔خیال رہے کہ بہت قسمیں کھانے سے روزی گھٹتی ہے یہ تو سچی قسموں کا اثر ہے پھر جھوٹی قسموں کا کیا حال ہوگا۔(دیکھو شامی)
|
6011 -[5] وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «ثُمَّ يخلف قوم يحبونَ السمانة» |
اور مسلم کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ پھر ان کے پیچھے ایسے لوگ آئیں گے جو موٹاپا پسند کریں گے ۱؎ |
۱؎ سمانۃ کے تین معنی ابھی ہم نے عرض کردیئے عیش و آرام سے حاصل کیا ہوا موٹاپا،جھوٹی شیخی،مالداری۔
|
6012 -[6] عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْرِمُوا أَصْحَابِي فَإِنَّهُمْ خِيَارُكُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَظْهَرُ الْكَذِبُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَحْلِفُ وَلَا يُسْتَحْلَفُ وَيَشْهَدُ وَلَا يُسْتَشْهَدُ أَلَا مَنْ سَرَّهُ بُحْبُوحَةُ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمْ وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سيئته فَهُوَ مُؤمن» |
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میرے صحابہ کی عزت کرو کیونکہ وہ تمہارے بہترین ہیں ۱؎ پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھروہ جو ان کے قریب ہیں۲؎ پھر جھوٹ ظاہر ہوگا حتی کہ آدمی قسم کھائے گا حالانکہ قسم لیا نہ جاوے گا اور گواہی دے گا حالانکہ گواہی لیا نہ جاوے گا آگاہ رہو کہ جو جنت کا وسط چاہے وہ جماعت کو مضبوط پکڑے۳؎ کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ ہوتا ہے۴؎ اور وہ دو سے دور رہتا ہے ۵؎ کوئی شخص کسی اجنبی عورت سے خلوت نہ کرے کیونکہ شیطان ان کا تیسرا ہوتا ہے ۶؎ اور جس کو اس کی نیکی خوش کرے اور اس کی برائی غمگین کرے تو وہ مؤمن ہے۷؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع