دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

6008 -[2]

وَعَن أبي بردة عَن أَبيه قَالَ: رَفَعَ يَعْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم رَأسه إِلَى السَّمَاء وَكَانَ كثيرا مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ. فَقَالَ: «النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومَ أَتَى السَّمَاءَ مَا توعَدُ وَأَنا أَمَنةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَنَا أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمتي مَا يُوعَدُون» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوبردہ سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎  کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ بہت دفعہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے تھے۲؎  فرمایا کہ تارے آسمان کے لیے امان ہیں جب تارے جاتے رہیں گے تو آسمان کو وہ پہنچے گا۳؎  جس کا وعدہ ہے اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں۴؎  تو جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ گزرے گا جس کا ان سے وعدہ ہے۵؎  اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں تو جب میرے صحابہ چلے گئے تو میری امت کو وہ پہنچے گا جس کا ان سے وعدہ ہے۶؎ (مسلم)

۱؎  یعنی حضرت ابو موسیٰ اشعری سے،ابو بردہ انہیں کے فرزند ہیں۔

۲؎  حضور انور کا اکثر آسمان کو دیکھنا یا تو انتظار وحی میں ہوتا تھا یا اس لیے کہ آپ کا وطن اصلی وہ ہی ہے،یا اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو انوار غیبیہ اور عالم بالا کی چیزیں نظر آتی تھیں۔

۳؎  قیامت میں پہلے آسمان سے تارے جھڑیں گے پھر آسمان پھٹیں گے،جب تک تارے آسمان پر ہیں آسمان پھٹنے سے امن میں ہے،فرماتاہے:"وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتْ"۔

۴؎  اس طرح کہ میری موجودگی میں وہ حضرات آپس کے جنگ و قتال وغیرہ آفات سے محفوظ ہیں۔

۵؎  خیال رہے کہ صدیقی فاروقی زمانہ میں جو صحابہ میں امن و امان رہا وہ حضور ہی کا فیض تھا،سورج ڈوبنے کے بہت بعد تک شفق رہتی ہے وہ سورج ہی کی روشنی ہوتی ہے،خلافت عثمانی کے نصف تک امن رہی پھر دنیاوی فتنے بہت پھیلے بلکہ عثمان غنی کی شہادت سے فتنوں کا دروازہ کھل گیا۔

۶؎  یعنی صحابہ کے بعد دینی فتنے اسلامی فرقے اور بدعات مسلمانوں میں بہت پھیل جائیں گی۔صحابہ کرام کے زمانہ میں اگرچہ فتنے ہوئے مگر مسلمانوں کا دین ایسا نہ بگڑا تھا جیساکہ بعد میں بگڑا اور اب اس زمانہ کا تو پوچھنا ہی کیا ہے اللہ محفوط رکھے۔ مایوعدون سے مراد ہے خیر اور خیر والوں کا اٹھ جانا،شر اور شر والوں کا پھیل جانا اسی لیے حضور انور نے فرمایا اصحابی کا النجوم میرے صحابہ آسمان ہدایت کے تارے ہیں۔

6009 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيَقُولُونَ:هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ فَيَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ فَيُقَالُ: هَلْ فِيكُمْ مَنْ صَاحَبَ مَنْ صَاحَبَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيُفْتَحُ لَهُمْ ".وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: "يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمُ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ: انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيكُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ: هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَى مَنْ رَأَى أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ يَكُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَى مَنْ رَأَى أَحَدًا رَأَى أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُم بِهِ "

روایت ہے حضرت ابوسعید الخدری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا ۱؎  کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو لوگ کہیں گے کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہا ہو تو کہیں گے کہ ہاں پھر انہیں فتح دی جاوے گی۲؎  پھر لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا تو لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جاوے گا کہ تم میں وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے ساتھ رہا ہو لوگ کہیں گے ہاں پھر انہیں فتح دی جاوے گی،پھر لوگوں پر ایک زمانہ آوے گا کہ لوگوں کی ایک جماعت جہاد کرے گی تو کہا جاوے گا کہ کیا تم میں وہ ہے جو ان کے ساتھ رہا ہو جو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کے ساتھ رہے لوگ کہیں گے ہاں تو انہیں فتح دی جاوے گی۳؎(مسلم وبخاری) اور مسلم کی روایت میں ہےفرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آوےگا کہ ان میں سے ایک لشکر بھیجا جاوے گا تو کہیں گے کہ دیکھو کیا تم اپنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا صحابی پاتے ہو تو ایک صحابی پائے جائیں گے تو انہیں فتح دی جاوے گی۴؎  پھر دوسرا لشکر بھیجا جاوے گا تو کہیں گے کیا ان میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کو دیکھا۵؎  پھر انہیں فتح دی جاوے گی پھر تیسرا لشکر بھیجا جاوے گا تو کہا جاوے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں وہ شخص دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے دیکھنے والے کو دیکھا ہو پھر چوتھا لشکر ہوگا تو کہا جاوے گا کہ دیکھو کیا تم ان میں کوئی ایسا دیکھتے ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے اسے دیکھا ہو جس نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا ہے تو ایک شخص پایا جائے گا تب اسے فتح دی جاوے گی۶؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن