30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عافیت و ثواب جانتے تھے۔بعض صحابہ نے ان جنگوں کو بغاوت سمجھا وہ حکومت کے ساتھ شریک ہوگئے،بعض نے حکومت کو غلط سمجھا وہ مخالفین کے ساتھ شریک ہوئے،حضرت ابن عمر ہمیشہ ان تمام جنگوں میں علیحدہ رہے ہر جماعت کے علیحدہ دلائل تھے ان کا یہ اختلاف اجتہادی تھا ان میں سے کوئی گنہگار نہ تھا۔
۴؎ یعنی اے ابن عمر یہ جنگ برحق ہے فتنہ مٹانے کے لیے ہے آپ ضرور اس میں شرکت کریں۔
۵؎ یعنی اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک و کفر ہے اور جنگ سے مراد ہے کفار سے جہاد یعنی ہم کفار سے جہاد حضور صلی الله علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے زمانہ میں کرچکے اب یہ جنگیں مسلمانوں کی آپس میں ہیں جو نرا فساد ہیں۔
۶؎ یعنی تمہاری لڑائیوں کا انجام یہ ہوگا کہ مسلمان کمزور پڑ جائیں گے کافر حکومتیں تمہارے مقابل دلیر ہوجائیں گی،خطرہ ہے کہ اسلام کمزور ہوجائے گا یہ ملکی جنگ ہے دینی جہاد نہیں۔شعر
جنگ شاہاں فتنہ و غارتگری است جنگ مؤمن سنت پیغمبری است
آپ کے کلام میں پہلے فتنہ سے مراد کفر اور اس دوسرے فتنہ سے مراد ہے امن سوزی یعنی گزشتہ جہاد دفع کے لیے تھے اور اب یہ قتال اسلام کی جڑیں ہلادینے کے لیے ہے۔
|
6005 -[27] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي هريرةَ قَالَ: جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وسلم فَقَالَ: إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ». |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ طفیل ابن عمرو دوسی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۱؎ بولے کہ دوس تو ہلاک ہوگئے انہوں نے نافرمانی کی اور انکار کیا تو ان پر الله سے بددعا کریں لوگ سمجھے کہ حضور ان پر بددعا کریں گے مگر فرمایا الٰہی دوس کو ہدایت دے اور انہیں یہاں پہنچا دے۲؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ طفیل ابن عمرو کا لقب ذوالنور ہے کیونکہ جب حضور نے انہیں اپنی قوم کی طرف نمائندہ بناکر بھیجا تو ان کے عرض کرنے پر کہ میری نمائندگی کی کوئی نشانی عطا ہو حضور نے ان کی پیشانی چمکادی یہ نور آپ کے سامنے رہتا تھا پھر وہ نور ان کی لاٹھی میں منتقل ہوگیا وہ لاٹھی رات میں مشعل کی طرح چمکتی تھی،آپ نے اپنی قوم کو تبلیغ کی تو آپ کی تبلیغ پر حضرت ابوہریرہ اور طفیل کے والد تو ایمان لائے والدہ ایمان نہ لائیں،آپ خلافت صدیق میں غزوہ یمامہ میں شہید ہوئے۔
۲؎ سبحان الله! یہ ہے کرم کریمانہ کہ خود دوسی شخص اپنی قوم کی ہلاکت کے لیے بددعا چاہتے مگر رحمت والے محبوب انہیں دو دعائیں دیتے ہیں ایک ایمان کی دوسری ان کے مدینہ منورہ حاضر ہوکر حضور کو دیکھ کر صحابی بن جانے کی،الله نے حضور کی یہ دونوں دعائیں قبول فرمائیں یعنی الٰہی انہیں مؤمن بنا کر میرے پاس لا۔
|
6006 -[28] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَحِبُّوا الْعَرَبَ لِثَلَاثٍ: لِأَنِّي عَرَبِيٌّ وَالْقُرْآنُ عَرَبِيٌّ وَكَلَامُ أَهْلِ الْجَنَّةِ عربيٌّ «رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي»شعب الْإِيمَان". |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین وجہ سے عرب سے محبت کرو ۱؎ کیونکہ میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور جنتی لوگوں کی بولی عربی ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع