30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۶؎ یعنی حجاج ابن یوسف کی قوم جو تم کو برا سمجھتی ہے وہ بدترین قوم ہے تم اچھے ہو وہ قوم ہی بری ہے حجاج ابن زبیر کو عدو الله یعنی الله کا دشمن کہتا تھا اس کی تردید میں آپ نے یہ فرمایا۔
۷؎ یہ عبارت یا تو راوی کی غلطی ہے یا آپ نے بطور تمسخر یہ فرمایا کہ وہ بڑی اچھی جماعت ہے یعنی وہ اپنے کو اچھا سمجھتی ہے حالانکہ ہے بری۔
۸؎ سیدنا عبدالله ابن عمر ان تمام جنگوں میں الگ تھلگ رہے تھے،نیز حضرت عمر فاروق کے صاحبزادے بڑے متبع سنت علم و عمل کے جامع تھے ان وجوہ سے ان کا بڑا احترام تھا۔جب حجاج کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر نے یہ فرمایا ہے تو اسے خطرہ ہوا کہ اگر اب عبدالله ابن زبیر کی لاش سولی پر رہی تو لوگوں میں زبردست اشتعال پیدا ہوگا،ممکن ہے کہ لوگ بھڑک جاویں اور ملک میں فساد ہوجاوے اس لیے آپ کی لاش یہود کے قبرستان میں ڈلوادی،اب وہ قبرستان لاپتہ ہے پھر مسلمانوں نے ان کی لاش جنت معلی میں دفن کی بہت عرصہ کے بعد۔(اشعہ)
۹؎ حضرت اسماء بنت ابوبکر الصدیق رضی الله عنہا حضرت عائشہ صدیقہ کی بہن حضور انور کی سالی ہیں،صحابیہ ہیں،حجاج ظالم کو کسی کی بزرگی کا بھی لحاظ نہ تھا اس نے بی بی اسماء کو اپنے دربار میں حاضر کرنا چاہا۔
۱۰؎ یعنی میں اپنی خوشی اپنے اختیار سے تیرے پاس نہیں آؤں گی ہاں اگر تو نے جبرًا بلا لیا تو میں مجبور ہوں گی۔
۱۱؎ سبت وہ جوتا جس پر بال نہ ہوں یعنی بال منڈے ہوئے چمڑے کی جوتی،سبت بمعنی مونڈنا صاف کرنا،بعض نے فرمایا کہ سبت ایک جگہ کا نام ہے جسے سوق البست کہتے ہیں۔عرب میں وہاں کا جوتا عام پہنا جاتا ہے جیسے ہمارے ملک میں تلہ گنگ کا جوتا یا ہندوستان میں دہلی کا جوتا۔
۱۲؎ توذف کے معنی ہیں قریب قریب قدم ڈال کر چلنا جیساکہ متکبرین کا طریقہ ہے یعنی وہ اکڑتا مٹکتا ہوا چلا نہایت فخروتکبر سے۔
۱۳؎ اس بدنصیب نے حضرت اسماء سے تعزیت کرنے کی بجائے الٹا ان کو طعنہ دیا ان کا جوان بیٹا شہید کیا اور پھر زخم دل پر یہ نمک چھڑکا اپنے دشمن کو الله کا دشمن کہا،یعنی اے اسماء تم نے دیکھ لیا کہ میں نے تمہارے بیٹے الله کے دشمن کو کس طرح تکالیف کے ساتھ شہید کیا۔سبحان الله! کیسا پیارا جواب دیا کہ تو نے انہیں شہید کرکے ان کی دنیا ختم کردی مگر انہوں نے تیرے ہاتھوں شہید ہوکر تجھے ظالم بناکر تیری آخرت تباہ کردی،تجھے دوزخ کا مستحق بنادیا،انہیں صرف پانچ منٹ کی تکلیف ہوئی تو دائمی عذاب کا مستحق ہوگیا ؎
پنداشت ستمگر کہ ستم برما کرد برگردن او بماند برما بگذشت
۱۴؎ حجاج مردود حضرت عبدالله ابن زبیر کو ماں کی گالی دیتا تھا کہ اے دو کمر بند والی عورت کے بیٹے،اس کا مقصد یہ تھا کہ تمہاری ماں لونڈی ہیں کہ مولٰی کی خدمت کے لیے اپنی کمر دو نالوں سے باندھتی ہیں تم لونڈی کے بیٹے ہو،آپ فرماتی ہیں کہ اے مردود یہ لقب میرے لیے باعث فخر ہے مجھے حضور کی طرف سے ایک خدمت کے صلہ میں بطور خطاب ملا ہے تو اسے میرے لیے بطور گالی بناتاہے۔
۱۵؎ اس عبارت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ دواب بمعنی کیڑے مکوڑے ہے اور ارفع کے معنی میں محفوظ کرتی تھی۔ یعنی ہجرت کے دن میں نے اپنے کمر بند کے ایک ٹکڑے سے حضور صلی الله علیہ وسلم اور صدیق اکبر کا کھانا باندھا تھا تاکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع