30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ مسجد نبوی شریف میں بیٹھے یا کسی اور جگہ یوں ہی آپس میں بات چیت کرنے کے لیے۔دیکھو حضرات صحابہ کے دن رات کی آپس کی گفتگو کیسی ہوتی تھی اور ان کی مجلسیں کیسی پیاری ہوا کرتی تھیں،ہماری مجلسیں غیبت بہتان،کسی کے خلاف اسکیم سازی کی ہوتی ہیں مگر وہ مجلسیں دینی ہوتی تھیں۔
۲؎ اس وقت حضور انور ان حضرات سے قریب تو ہوئے مگر ان پر ظاہر نہ ہوئے ورنہ وہ حضرات اپنی گفتگو بند کردیتے۔ معلوم ہوا کہ آقا اپنے غلاموں کی بات چیت چھپ کر سن سکتا ہے اور اس کی اصلاح بھی کرسکتا ہے،یہ تجسس نہیں بلکہ اصلاح اور تبلیغ ہے۔تجسس کہتے ہیں کسی کی عیب جوئی کرنا یہ ممنوع ہے،رب فرماتاہے:"وَ لَا تَجَسَّسُوۡا"۔
۳؎ ان حضرات کی گفتگو اس بارے میں تھی کہ کون نبی افضل ہیں۔بعض نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں کیونکہ انہیں الله نے خلیل بنایا،رب فرماتاہے:"وَاتَّخَذَ اللہُ اِبْرٰہِیۡمَ خَلِیۡلًا"خلیل کے معنی اور خلیل وحبیب میں فرق ان شاءاﷲ ابھی ہم عرض کرتے ہیں۔
۴؎ یعنی الله تعالٰی نے موسیٰ علیہ السلام سے ان کی زندگی شریف میں کوہ طور پر بغیر واسطہ فرشتہ کلام کیا اور کئی بار کیا اسی لیے ان کا لقب ہے کلیم الله لہذا وہ ہی تمام نبیوں سے افضل ہونے چاہئیں۔خیال رہے کہ کلیم کے معنی ہیں کہ باربار کلام فرمانا،الله تعالٰی نے آپ سے پہلے تو عطا نبوت کے وقت کلام کیا"وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی"پھر بارہا انہیں کوہ طور پر بلاکر کلام فرمایا،یہ بیداری میں تھا باقی نبیوں سے ایسے بےواسطہ کلام نہ ہوا۔مگر خیال رہے کہ یہ کلام تھا حجابانہ،ہمار ے حضور سے معراج میں ملے،بےحجابانہ کلام کیا،وہاں دیدار کے ساتھ گفتار تھی"فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی"۔ ؎
طور اور معراج کے قصے سے ہوتا ہے عیاں ان سے پردہ تھا خدا کا آپ سے پردہ نہ تھا
۵؎ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو رب نے ذاتی خوبی یہ بخشی کہ آپ کی پیدائش مرد یا عورت کے نطفہ سے نہیں ہوئی بغیر واسطۂ نطفہ،رب نے حضرت مریم کے پیٹ شریف میں بذریعہ جبریل علیہ السلام کے دم کے آپ کا جسم بنایا،چونکہ آپ روح الامین کے دم سے پیدا ہوئے اس لیے آپ کا لقب روح الله ہے اور چونکہ حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک کلمہ کہہ کر دم کیا تھا اس لیے آپ کا لقب کلمۃالله ہے۔اسی لیے آپ کلمہ کن فرما کر مردے میں روح ڈال دیتے تھے،بیمار اچھے کردیتے تھے کیونکہ آپ روح الامین کے ایک کلمہ کے ذریعہ پیدا ہوئے اس لیے چاہیے کہ آپ تمام نبیوں سے افضل ہوں۔
۶؎ یعنی الله تعالٰی نے چند خصوصیتوں میں آدم علیہ السلام کو ممتاز فرمایا ،آپ کو ابو البشر بنایا،آپ کو ساری چیزوں کے نام بتائے، آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا،آپ کو اپنا خلیفہ بنایا،آپ کو سارے نبیوں کا والد بنایا اس لیے آپ ہی افضل ہونے چاہئیے تھے ان بزرگوں میں کسی نے اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کے فضائل کا ذکر نہ کیا مگر ؎
ذکر سب پھیکے جب تک نہ مذکور ہو نمکین حسن والا ہمارا نبی
۷؎ یعنی اب حضور انور ان حضرات کے سامنے تشریف لائے اگر پہلے ہی ظاہر ہوجاتے تو وہ حضرات اس آزادی سے گفتگو نہ کرسکتے تھے۔الحمدﷲ کہ ان حضرات کے دلائل بھی ہمارے سامنے آگئے اور حضور انور کا فیصلہ بھی سامنے آگیا اب تاقیامت یہ فرمان عالی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ رہے گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع