30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
6000 -[22] وَعَن أم حَرِير مولاة طَلْحَة بن مَالك قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ يَقُولَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:«مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے ام جریر سے جو طلحہ ابن مالک کی لونڈی ہیں فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے مولا کو کہتے سنا کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کا نزدیک ہونا عرب کی ہلاکت ہے ۱؎(ترمذی) |
۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ تمام ملکوں سے آخر میں ملک عرب فنا ہوگا اس کے بعد قیامت ہی ہے،یہ جگہ دنیا کا تعویذ ہے کیوں نہ ہو کہ یہ جگہ حضور کی ہے اور حرمین شریفین ہے جو دنیا کا مرکز ہیں مرکز سے دائرہ کی بقاء ہے۔
|
6001 -[23] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ» يَعْنِي الْيَمَنَ. وَفِي رِوَايَةٍ مَوْقُوفًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: هَذَا أصح |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سلطنت قریش میں ہے اور قضاء انصار میں ۱؎ اور اذان حبشہ میں ۲؎ اور امانتداری ازدیعنی یمن میں ہے۳؎ اور ایک روایت میں یہ حدیث موقوف ہے۔ (ترمذی)اور فرمایا یہ بہت صحیح ہے۔ |
۱؎ یعنی مناسب یہ ہے کہ سلطان اسلام قرشی ہو نقیب یا وزیر انصاری ہوں۔چنانچہ حضور انور نے ہجرت سے پہلے ستر انصاریوں کو مدینہ منورہ کی نقابت اور سرداری کے لیے منتخب فرمایا۔بعض شارحین نے کہا کہ قضا سے مرادشخصی قاضی ہوتا ہے،انصار اسلام کا ستون ہیں انہیں کے شہر میں انہیں کے ذریعہ سے اسلام پھیلا،حضرت معاذ کو حضور انور نے یمن کا قاضی مقرر فرمایا۔
۲؎ کیوں نہ ہو کہ مؤذنوں کے سردار حضرت بلال حبشی ہیں جن کی اذان کی آواز عرش معلی تک پہنچتی تھی،ایک دن حضرت بلال کو اذان سے روک دیا گیا دوسرے شخص نے اذان دی تو وحی الٰہی آئی ؎
گفت ہاتف بردر خیر الورا چہ سبب بے بانگ شدبیت خدا
آج بغیر اذان نماز کیوں پڑھ لی حضور انور نے فرمایا کہ مولیٰ آج تو بڑی خوش الحانی سے اذان ہوئی ہے تو فرمایا ؎
گفت ہاتف بازاز بانگ بلال خوش شدے برعرش رب ذوالجلال
۳؎ ازد ملک یمن کا ایک قبیلہ ہے،ازد فرمانے سے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید یمن کے دوسرے قبیلوں میں امانت داری نہ ہو تو فرمایا کہ ازد سے ہماری مراد سارا یمن ہے سارے یمنی امین ہوتے ہیں کیوں نہ ہوں کہ حضرت اویس قرنی کے ہم وطن ہیں۔
|
6002 -[24] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: «لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن مطیع سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فتح مکہ میں فرماتے سنا کہ اس دن کے بعد قیامت تک کوئی قرشی باندھ کر قتل نہیں کیا جاوے گا ۲؎(مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع