30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی جب انسان اپنے ماں باپ سے عدوات نہیں کرتا جن سے جان ملتی ہے تو حضور سے تو ہم کو ایمان،قرآن عرفان بلکہ رحمان ملا تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میں حضور سے بغض رکھوں۔
۳؎ یعنی عرب سے اس لیے نفرت کرنا کہ وہ عرب ہیں حضور سے بغض ہے کیونکہ حضور سرکار عربی ہیں ،قرآن عربی میں ہے لہذا مدینہ منورہ کے منافقین اور عرب کے یہودیوں،نجد کے وہابیوں سے نفرت کرنا ان سے بعض رکھنا بالکل درست ہےکہ اس میں کفر سے نفرت ہے نہ کہ ان کے عربی ہونے سے،حضور کی ہر منسوب چیز سے الفت رکھنا علامت ایمان ہے،اس نسبت سے نفرت کرنا علامت کفر ہے،دیکھو صفا مروہ پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ سے نسبت ہے تو انہیں شعائر الله فرمایا"اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ"اور شعائر الله کی تعظیم دلی تقویٰ ہے"وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ"۔
|
5999 -[21] وَعَن عُثْمَان بن عَفَّان قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ وَلَيْسَ هُوَ عِنْدَ أهل الحَدِيث بِذَاكَ الْقوي |
روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو عرب سے خیانت کرے ۱؎ وہ میری شفاعت میں داخل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اسے ہم نہیں پہچانتے مگر حصین ابن عمرو کی حدیث ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ایسے قوی نہیں ۳؎ |
۱؎ غش کے لفظی معنی ہیں ملاوٹ کرنا یہاں مراد ہے ان کی طرف سے دل میں کھوٹ رکھنا عداوت رکھنا ان سے خیانت کرنا۔ (اشعہ،مرقات،لمعات)
۲؎ حضور کی شفاعت کی بہت قسمیں ہیں: میدان محشر سے نجات دلانے کی شفاعت،گناہ معاف کرانے کی شفاعت،درجے بلند کرانے کی شفاعت۔پہلی شفاعت سے کفاربھی فائدہ اٹھائیں گے اور دوسری شفاعت ہم جیسے گنہگاروں کے لیے ہیں،آخری شفاعت ولیوں حتی کہ نبیوں کے لیے بھی ہے ،دوسری شفاعت کے لحا ظ سے حضور کو شفیع المذنبین کہاجاتاہے یہاں آخری شفاعت کی نفی ہے کیونکہ دوسری شفاعت تو گناہ کبیرہ والوں کی بھی ہوگی،فرماتے ہیں شفاعتی لاھل الکبائر من امتی اور اگر کسی نے عرب سے عربی ہونے کی وجہ سے بغض رکھا تو وہ کافر ہے اس کے لیے یہ شفاعت بھی نہیں۔
۳؎ یعنی یہ حدیث قوی نہیں مگر چونکہ فضائل اعمال میں ہے لہذا قبول ہے۔خیال رہے کہ یہ حدیث اتنی اسنادوں سے مروی ہے کہ معنًی متواتر ہے۔چنانچہ حاکم نے انس سے مرفوعًا روایت فرمایاکہ عرب کی محبت ایمان سے ہے اور ان سے نفرت منافقت ہے۔طبرانی میں ہے کہ قریش سے محبت ایمان ہے ان سے عداوت کفر ہے جس نے عرب سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی،جس نے عرب سے عداوت رکھی اس نے مجھ سے عداوت رکھی۔حاکم نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا روایت کی کہ فقیروں سے محبت رکھو ان کے پاس بیٹھو،عرب سے دلی محبت کرو وغیرہ۔(مرقات)بہرحال یہ حدیث مختلف طریقوں سے مختلف اسنادوں سے مروی ہے۔
|
6000 -[22] وَعَن أم حَرِير مولاة طَلْحَة بن مَالك قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ يَقُولَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول:«مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ»رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے ام جریر سے جو طلحہ ابن مالک کی لونڈی ہیں فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے مولا کو کہتے سنا کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ قیامت کا نزدیک ہونا عرب کی ہلاکت ہے ۱؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع