دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱؎ آپ عبدالرزاق ابن ہمام ابن نافع ہیں،تبع تابعین میں سے ہیں اور یہ تابعی ہیں،ضعیف ہیں،عبدالرحمن ابن عوف کے غلام ہیں۔(اشعہ)

۲؎ یعنی وہ آنے والا شخص قبیلہ بنی قیس سے تھا،قیس غیلان ایک شخص تھا جس کا نام الیاس ابن مضر تھا،لقب قیس،اس کی اولاد کو بنی قیس کہا جاتا ہے۔(مرقات)

۳؎ شاید ان دونوں قبیلوں یعنی قیس اور حمیر کی آپس میں مخالفت ہوگی اس لیے اس نے بددعا کے لیے کہا اس وقت تک حمیر قبیلہ ایمان نہ لایا ہوگا۔

۴؎ حمیر بروزن درہم یمن کے مغربی شہر کا نام بھی ہے اور حمیر ابن سبا ابن یشحب ایک آدمی کا نام بھی ہے اس کی اولاد کو حمیر کہا جاتا ہے،اب یہ بہت بڑا قبیلہ ہے۔

۵؎ یعنی ان میں چار صفات ہیں: نرم زبان،سخی ہاتھ،دل میں امن کہ کسی کو ستاتے نہیں،کامل ایمان یا تو فی الحال ایمان والے ہیں یا آئندہ ایمان والے ہونے والے ہیں میں ان پر بد دعا کیسے کروں۔

5997 -[19]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ دَوْسٍ. قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي دَوْسٍ أحدا فِيهِ خير» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں کہ مجھ سے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کس قبیلہ سے ہو ۱؎ میں نے کہا کہ دوس سے ہوں فرمایا میں نہیں سمجھتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسی چیز ہے جس میں بھلائی ہو ۲؎(ترمذی)

۱؎ یعنی جب حضرت ابو ہریرہ ایمان لائے تو حضور انور نے ان سے ان کے قبیلہ کا نام پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں قبیلہ دوس سے۔ خیال رہے کہ دوس ابن عدنا ن ابن عبدالله اس قبیلہ کا مورث اعلیٰ ہے اس کی طرف یہ قبیلہ منسوب ہے۔(مرقات)

۲؎ یعنی ہمارا خیال تھا کہ قبیلہ دوس میں سارے لوگ ہی برے ہیں مگر ماشاءالله تم دوسی ہو اور اچھے ہو اس میں دوس قبیلہ کی برائی ہے اور حضرت ابو ہریرہ کی بہت تعریف۔

5998 -[20]

وَعَن سلمَان قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ» قَلْتُ:يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ؟قَالَ:«تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے   بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو  گے۱؎میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی ۲؎فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎ حضرت سلمان فارسی یعنی ایران کے رہنے والے تھے،عرب میں رہنے لگے۔بعض طبیعتوں میں صوبائی یا ملکی تعصب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ہمارا صوبہ اچھا دوسرا صوبہ وہاں کے لوگ برے اس کی پیش بندی فرماتےہوئے  یہ ارشاد ہوا کہ یہاں فارسیت اور عربیت کا فرق نہ کرنا۔یہ کلام شریف اگلے کلام کی تمہید ہے ان تعصبوں سے الله بچائے مگر کس نفیس طریقہ سے تعلیم فرمائی سبحان الله! اپنے ذکر سے ابتداء فرمائی تاکہ ان کے قلب پر گہرا اثر ہو۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن