دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5994 -[16]

وَرَوَى مُسْلِمٌ فِي «الصَّحِيحِ» حِينَ قَتَلَ الْحَجَّاجُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَتْ أَسْمَاءَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا «أَن فِي ثَقِيف كذابا ومبيرا» فَأَما الْكذَّاب فَرَأَيْنَاهُ وَأَمَّا الْمُبِيرُ فَلَا إِخَالُكَ إِلَّا إِيَّاهُ. وَسَيَجِيءُ تَمام الحَدِيث فِي الْفَصْل الثَّالِث

مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کی کہ جب حجاج نے عبدالله ابن زبیر کو قتل کیا تو بی بی اسماء نے کہا ۱؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہم کو خبر دی کہ ثقیف میں ایک جھوٹا ہے اور ایک ہلاک کرنے والا جھوٹے کوتو ہم نے دیکھ لیا ۲؎لیکن مہلک کو تو میں تجھے نہیں خیال کرتی مگر وہ ہی۳؎ اور پوری حدیث تیسری فصل میں آوے گی۔

۱؎ حضرت عبد اللہ ابن زبیر کے قتل کا واقعہ ابھی تیسری فصل میں آرہاہے  حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق  حضرت زبیر کی بیوی اور عبدالله ابن زبیر کی والدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین کی بہن ہیں رضی الله عنہا۔

۲؎ یعنی مسیلمہ کذاب جس نے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا بہت لوگوں کو گمراہ کیا آخر وحشی کے ہاتھوں خلافت صدیقی میں مارا گیا تواریخ اس واقعہ سے بھری ہوئی ہیں۔

۳؎ یعنی حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس ظالم کا نام نہیں بتایا مگر تیرے کام بتارہے ہیں کہ تو وہی ہے کہ تو نے امت رسول کو بہت ہی قتل کیا۔

5995 -[17]

وَعَن جَابر قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ. قَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ ثقيفا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

 روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہم کو ثقیف کے تیروں نے جلا ڈالا  ۱؎ حضور ان پر بد دعا کریں فرمایا الٰہی ثقیف کو ہدایت دے ۲؎(ترمذی)

۱؎  یہ عرض ومعروض غزوہ طائف میں ہوئی جبکہ مسلمانوں کو بنی ثقیف سے بہت تکلیف پہنچی۔(مرقات)صحابہ نے عرض کیا تھا کہ ان کی ہلاکت کی دعافرمادیں۔

۲؎ چنانچہ حضور کی دعا سے سارے ثقفی لوگ ایمان لائے یہ ہے شان رحمۃ للعالمین۔

5996 -[18]

وَعَن عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مِينَاءَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فجَاء رَجُلٌ أَحْسَبُهُ مِنْ قَيْسٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ من الشقّ الآخر فَأَعْرض عَنهُ ثمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ويُروى عَن ميناءَ هَذَا أَحَادِيث مَنَاكِير

روایت ہے عبدالرزاق سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ وہ مینا سے وہ حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ہم بنی صلی الله علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ بنی قیس سے تھا۲؎ بولا یارسول الله حمیر پر لعنت کیجئے۳؎ حضور نے اس سے منہ پھیر لیا وہ آپ کے پاس دوسری طرف سے آیا آپ نے اس سے منہ پھیر لیا پھر وہ اور طرف سے آیا حضور نے اس سے منہ پھیر لیا پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا الله حمیر پر رحم کرے ۴؎ ان کے منہ میں سلام ہے ان کے ہاتھوں میں کھانا ہے وہ امن اور ایمان والے ہیں ۵؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اسے ہم نہیں جانتے مگر عبدالرزاق کی حدیث سے اور ان مینا سے منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن