30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی حضور انور نے بنی تمیم کو اپنی قوم فرمایا،اس نسبت سے ان کی عظمت کو چار چاند لگ گئے ؎
بد ہیں تو تمہارے ہیں بھلے ہیں تو تمہارے نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے
ہم لاکھ بار کہیں کہ حضور ہمارے رسول ہیں اگر وہ ایک بار فرمادیں کہ تو ہمارا امتی ہے تو تقدیر کھل جاوے ؎
رضا قسمت ہی کھل جاوے جو طیبہ سے خطاب آئے کہ تو ادنی سگ درگاہ دربار معالی ہے
خیال رہے کہ ہم مذہب،ہم مشرب،ہم وطن،ہم پیشہ،ہم نسب،ہم زبان،ہم استاذ،ہم پیر ان سب کو قوم کہا جاتا ہے۔یہاں ہم وطن یا ہم زبان کے معنی سے قوم فرمایا گیا ورنہ بنی تمیم قرشی ہاشمی نہیں ہیں۔
۳؎ یعنی بنی تمیم عرب میں اولاد اسمعیل سے ہیں،اس خاندان اور عرب اس نسل کا غلام آزاد کرنا افضل ہے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی اولاد پر احسان کرنا دوسروں پر احسان کرنے سے افضل ہے،اولاد سے سلوک آباء اجداد کی خوشنودی کا باعث ہے۔ بعض مسلمان گیارہویں شریف کا کھانا حضور غوث پاک کی اولاد یعنی حسنی سیدوں کو کھلاتے ہیں یعنی انہیں ترجیح دیتے ہیں ان کی دلیل یہ حدیث ہوسکتی ہے،اصل سے نسل کو شرف ملتا ہے مگر کبھی نسل سے اصل کو۔
|
5988 -[10] عَنْ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ الله» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت سعد سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو قریش کو ذلیل کرنا چاہے گا خدا اسے ذلیل کرے گا ۱؎(ترمذی) |
۱؎ جو شخص قریشی خاندان کو ذلیل کرے وہ دنیا و آخرت میں یا فقط آخرت میں ذلیل و رسوا کیا جاوے گا اور جو قریش کو اس لیے ذلیل جانے کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی قوم ہے تو وہ کافر ہے،اگر کسی قرشی سے ذاتی جھگڑا ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے۔
|
5989 -[11] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے الٰہی تو نے اگلے قریش کو تکلیف چکھائی ہے تو ان کے پچھلوں کو بخشش چکا ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یعنی قریش پر اسلام لانے سے پہلے بدر،احزاب میں شکستیں اور اس سے پہلے خشک سالی قحط کی آفات آچکی ہیں،اب جب یہ لوگ مسلمان ہوچکے تو انہیں نعمتیں فتوحات ارزانی وغیرہ عطا فرما،یہ ہے کرم نوازی کہ دشمنی کے زمانہ کی تکالیف کا بھی انعام دلوا رہے ہیں۔
|
5990 -[12] وَعَن أبي عَامر الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«نَعْمَ الْحَيُّ الْأَسْدُ وَالْأَشْعَرُونَ لَا يَفِرُّونَ فِي الْقِتَالِ وَلَا يَغُلُّونَ هُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت ابو عامر اشعری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اسد اور اشعری لوگ بہترین قبیلے ہیں ۲؎ وہ لوگ جنگ میں بھاگتے نہیں خیانت کرتے نہیں وہ مجھ سے ہیں میں ان سے ہوں۳؎(ترمذی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع