دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱؎  موالی اگر ی کے شد سے ہو تو معنی ہیں کہ یہ ساتوں قبیلے میرے دوست میرے پیارے ہیں اور اگر ی کے سکون سے ہو تو معنی یہ ہیں کہ یہ ایک دوسرے کے اسلامی دوست ہیں ان کے دلوں میں غبار نہیں۔

۲؎ یعنی ان ساتوں قبیلوں کو صرف الله رسول سے محبت ہے،ان کی وجہ سے مسلمانوں سے الفت ہے،یہ کفر اور کفار سے بالکل محبت نہیں رکھتے ان سے کٹے ہوئے اور ان سے بے تعلق ہیں۔معلوم ہوا کہ کفار سے کٹا ہوا رہنا ایک محمود وصف ہے۔

5986 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ وَغِفَارُ وَمُزَيْنَةُ وَجُهَيْنَةُ خَيْرٌ مِنْ بني تَمِيم وَبني عَامِرٍ وَالْحَلِيفَيْنِ بَنِي أَسْدٍ وَغَطَفَانَ» .

 روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اسلم اور غفار اور مزینہ جہینہ بہتر ہیں بنی تمیم اور بنی عامر اور دونوں حلیفوں بنی اسد اور بنی غطفان سے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی یہ مذکورہ چار قبیلہ بنی تمیم و بنی عامر سے افضل ہیں کیونکہ یہ چاروں قبیلے بنی تمیم سے پہلے اسلام لائے اور ان میں ایمان کے آثار بہت قوی ہیں۔خیال رہے کہ تمیم اس قبیلہ کے مورث اعلیٰ کا نام ہے۔ایک بار حضور انور نے بنی تمیم سے فرمایا تھا کہ بشارت قبول کرو یہ بولے حضور آپ نے ہم کو بشارتیں تو دے دیں ہم کو کچھ مال دیجئے،حضور انور کو اس جواب سے بہت صدمہ ہوا اور بنی اشعر قبیلہ سے فرمایا کہ اگر بنی تمیم نے بشارت قبول نہ کی تو تم قبول کرو اور انہوں نے بہت خوشی سے کہا کہ ہم قبول کرتے ہیں یارسول الله۔قبیلہ بنی اسعد اور بنی غطفان زمانہ جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے کہ ہم میں سے جس پر کوئی آفت آئے تو دوسرا اس کی مدد کرے جیساکہ عرب میں دستور تھا۔بہرحال وہ چار قبیلے ان قبیلوں سے افضل ہیں،وجہ افضلیت حضور ہی جانتے ہیں ہمارا تو ان کی زبان ان کے فرمان پر ایمان ہے جس کو افضل کردیا وہ افضل ہے جسے نیچا کردیا وہ نیچا ہے     ؎

                                قسم خدا کی نہ اٹھ سکا قیامت تک              کہ جس کو تو نے نظر سے گرا کے چھوڑ دیا

5987 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: " مَا زِلْتُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ مُنْذُ ثلاثٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِمْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:«هُمْ أَشَدُّ أُمَّتِي عَلَى الدَّجَّالِ» قَالَ:وَجَاءَتْ صَدَقَاتُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«هَذِهِ صَدَقَاتُ قَوْمِنَا» وَكَانَتْ سَبِيَّةٌ مِنْهُمْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَ:«اعْتِقِيهَا فَإِنَّهَا مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ».

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں تین وجہوں سے بنی تمیم سے محبت کرتا رہا جو میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ان کے متعلق فرماتے سنا،میں نے حضور کو فرماتے سنا کہ یہ لوگ میری امت میں دجال پر سخت تر ہوں گے ۱؎ فرمایا ان کے صدقے آئے تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہماری قوم کے صدقے ہیں۲؎ اور جناب عائشہ کے پاس ان میں کی ایک لونڈی تھی تو فرمایا کہ اسے آزاد کر دو کہ یہ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہے۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی دجال کے خروج کے وقت بنی تمیم بہت زیادہ ہوں گے،دجال کا مقابلہ سب سے زیادہ یہ ہی کریں گے،یہ مقابلہ ان کے قوت ایمان کی دلیل ہے۔معلوم ہوا کہ بعض افراد کی عظمت کی وجہ سے ساری قوم کو عظمت مل جاتی ہے خواہ وہ افراد اب ہوں یا پہلے ہوچکے ہوں یا آئندہ ہونے والے ہوں۔یہاں تیسری قسم کی عظمت ہے کہ دجال سے مقابلہ کرنے والے تمیمی قریب قیامت ہوں گے مگر اس قوم کا احترام محبت آج ہی سے ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن