دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۱؎ خلافت وہ سلطنت ہے جس میں نیابت رسول بھی ہو۔یہاں ھذا الامر سے مراد خلافت اسلامیہ ہے اور یہ خبر بمعنی امر ہے یعنی اگر دنیا میں دو قریشی بھی رہ جائیں تب بھی خلیفۃ المسلمین قریشی ہی ہونا چاہیے کہ ایک قریشی خلیفہ ہو اور دوسرا قرشی اور باقی لوگ اس کی رعایا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آج تو عرصہ سے حکومت قریشیوں سے نکل چکی ہے۔خیال رہے کہ خلیفہ صرف قرشی ہی ہوسکتا ہے مگر سلطان اسلام ہر مسلمان ہوسکتا ہے۔خلافت اور ملوکیت میں یہ فرق ہے کہ خلافت قریش کے ساتھ خاص ہے ملوکیت و سلطنت عام،پھر خلافت دو قسم کی ہے: خلافت راشدہ اور غیر راشدہ۔خلافت راشدہ خلفاء اربعہ ابو بکر صدیق،عمر فاروق،عثمان غنی اور حضرت علی پرختم ہوگئی۔اس کے چھ ماہ حضرت امام حسن نے پورے کیے،بعد میں خلافت غیر راشدہ یا ملوکیت ہوئی۔بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ خبر ہی ہے مگر اس میں عدل و انصاف کی قید ہے جیساکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے کہ اگر قریش عادل و منصف رہیں تو خلافت ان ہی میں رہے گی اگرچہ دو قرشی ہوں جب کہ ان میں انصاف نہ رہا تو ان سے خلافت نکل جاوے گی تب بھی حدیث ظاہر ہے۔

5982 -[4]

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجهه مَا أَقَامُوا الدّين» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

 روایت ہے حضرت معاویہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ یہ چیز قریش میں ہے کہ نہیں دشمنی کرے گا ان کی کوئی مگر اسے الله اس کے منہ کے بل اوندھا ڈال دے گا جب تک کہ دین قائم کریں  ۱؎(بخاری)

۱؎ یعنی جب تک کہ قریش عدل و انصاف کریں دین اسلام قائم رکھیں تب تک ان کی شان یہ ہوگی کہ وہ خلیفۃ المسلمین ہوں گے اور ان کا دشمن ذلیل و خوار ہوگا مگر جب قریش ہی دین سے الگ بلکہ دین کے دشمن ہوجاویں تو نہ وہ اس خلافت کے مستحق رہیں گے نہ ان کا مخالف ذلت و خواری کا حق دار بلکہ پھر حکومت دوسروں کو ملے گی،اس حدیث نے پچھلی حدیث کو واضح کردیا۔

5983 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ».وَفِي رِوَايَةٍ:«لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَة أَويَكُونُ عَلَيْهِمُ اثْنَاعَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْش».

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا ۱؎ جو سارے کے سارے قریش کے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کا دین جاری رہے گا جب تک ان میں بارہ شخص والی ہوں جو سب قریش سے ہوں گے اور ایک روایت میں ہے کہ دین قائم رہے گا حتی کہ قیامت قائم ہو جاوے یا ان پر بارہ خلیفہ ہوں جو سارے قریش سے ہوں ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یہاں خلافت سے مراد خلافت نبوت نہیں یعنی خلافت راشدہ کیونکہ اس کی مدت صرف تیس سال ہے جو امام حسن پر ختم ہوتی ہے بلکہ خلافت امارت مراد ہے،خلیفہ بمعنی امیر ہے۔اہل سنت کے نزدیک اس فرمان عالی کے چند معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ یہ واقعہ امام مہدی کے بعد سے قیامت تک ہوگا ڈیڑھ سو سال میں یہ بارہ خلفاء ہوں گے،پہلے پانچ خلیفہ سبط اکبر یعنی امام حسن کی اولاد ہیں،پھر پانچ خلیفہ سبط اصغر یعنی امام حسین کی اولاد میں،پھر ایک خلیفہ امام حسین کی اولاد میں جیساکہ بعض

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن