30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان ۱؎
۱؎ مناقب جمع ہے منقبۃ کی جس کا مادہ ہے نقب،بمعنی پہاڑی دشوارگزار راستہ۔اصطلاح میں فضیلت بزرگوں کو منقبت کہتے ہیں کہ انسان بمشکل اسے حاصل کرتا ہے،اسی سے ہے نقیب بمعنی سردار۔قریش اس بڑی مچھلی کو کہتے ہیں جو اور مچھلیوں کو کھائے اسے کوئی نہ کھائے،اصطلاح میں نضر ابن کنانہ کی اولاد کو قریش کہتے ہیں کہ یہ سب سے افضل ہے۔قبیلہ ایک دادا کی اولاد کو کہتے ہیں،اونچا قبیلہ شعب ہے،اس کے نیچے قبیلہ،اس کے نیچے عمارت،اس کے نیچے بطن،اس کے نیچے فخذ ہے جیسے اردو میں قبیلہ،خاندان،نسب،کنبہ وغیرہ۔
|
5979 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْن مسلمهم تبع مسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم» . |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس کام میں قریش کے تابع ہیں ان کے مسلم قریش کے مسلمانوں کے تابع ہیں اور ان کے کافر قریش کے کافروں کے تابع ۱؎ (مسلم) |
۱؎ اس فر مان عالی کے بہت معنی کیے گئے ہیں۔قوی معنی یہ ہیں کہ زمانہ کفر میں بھی قریش تمام لوگوں کے سردار تھے کہ یہ حرم شریف کے باشندے،کعبہ کے پاسبان کلید بردار وغیرہ تھے حتی کہ کفار عرب ان کا لباس لے کر طواف کرتے تھے ورنہ ننگے،پھر ہدایت و اسلام میں بھی بقیہ لوگوں کے سردار ہوئے کہ حضور انور انہیں میں تشریف لائے،خلافت انہیں میں ہے۔ کفار عرب فتح مکہ کے منتظر تھے یہ فتح ہوا تو سب لوگ دھڑا دھڑ مسلمان ہوگئے بہرحال قدرتی طور پر ہمیشہ سے ہمیشہ تک قریش افضل تھے اور ہیں اور رہیں گے۔
|
5980 -[2] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّر» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ بھلائی برائی میں قریش کے تابع ہیں ۱؎ (مسلم) |
۱؎ خیر سے مراد اسلام اور شر سے مراد ہے کفر یعنی قریش دوسرے کفار کے سردار تھے اور مؤمنین قریش دوسرے مؤمنوں کے سردار ہیں،یہ مضمون بہت طرح سے احادیث میں وارد ہے۔احمد نے حضرت علی سے مرفوعًا روایت کی کہ اگر میں جنت کی زنجیر کھولوں تو پہلے بنی ہاشم کو وہاں داخل کروں۔(مرقات)معلوم ہوا کہ خاندانی بزرگیاں قابل قبول ہیں،رب نے بنی اسرائیل سے فرمایا:"وَاَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ"۔
|
5981 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَان» . |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چیز قریش میں ہے جب تک کہ ان میں سے دو بھی رہیں ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع