30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5976 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ» . |
روایت ہے حضرت ابوبکر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم مورث نہیں ہوتے ۱؎ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے(مسلم، بخاری) |
۱؎ صدقہ سے مراد ہے وقف، وقف کے منافع لوگ حاصل کرتے ہیں اصل محفوظ رہتی ہے۔
|
5977 -[5] وَعَنْ أَبِي مُوسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَأَهْلَكَهَا وَهُوَ يَنْظُرُ فَأَقَرَّ عَيْنَيْهِ بِهَلَكَتِهَا حِينَ كذَّبُوه وعصَوْا أمره» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ جب اپنے بندوں میں سے کسی گروہ پر رحمت چاہتا ہے تو اس کے نبی کو اس سے پہلے وفات دیتا ہے پھر اس نبی کو اس کے آگے پیشرو بناتا ہے ۱؎ اور جب کسی گروہ کی ہلاکت کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کے نبی کی زندگی میں عذاب دیتا ہے کہ نبی اسے دیکھتا ہے پھر اس کی ہلاکت سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے جب وہ اسے جھٹلاتے ہیں ۲؎ اور اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔(مسلم ) |
۱؎ یہاں سلف اور فرط ایک ہی معنی میں ہیں اس کی تحقیق پہلے ہوچکی ہے۔مؤمن مرکر نہ تو لاوارث ہوتا ہے نہ اجنبی گھر میں جاتا ہے،اس کے والی وارث حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں،ان کی آغوش رحمت میں جاتاہے بھرے گھر میں اترتا ہے۔
۲؎ اللہ تعالٰی نے گذشتہ جلالی نبیوں کی نافرمان امتوں کو ان کے سامنے ہلاک فرماکر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ہمارے حضور کی نافرمان امت کو حضور کے سامنے ہی ہدایت دے کر آپ کا مطیع بناکر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔چنانچہ مکہ معظمہ کے نافرمان کافر فتح مکہ کے دن سارے کے سارے ایمان لائے حضور کے مطیع ہوئے۔جلالی پیغمبروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہے حضور کی آنکھوں کی ٹھنڈک کچھ اور،ہر آنکھ کے لیے ٹھنڈا سرمہ علیحدہ ہے۔خیال رہے کہ حضور انور بھی ہر مؤمن کی آنکھ کی ٹھنڈک،دل کا چین،بے قراروں کا قرار،بے کسوں کے کس،بے بسوں کے بس،بے سہاروں کے سہارا ہیں ؎
تم ہو دوائے درد دل تم ہو قرار بے قرار دل کی لگی میرے نبی تیرے سوا بجھائے کون
|
5978 -[6] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ ومالهِ مَعَهم» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ تم میں سے کسی پر وہ دن آوے گا کہ وہ مجھے نہ دیکھے ۱؎ تو اسے میرا دیکھنا زیادہ پیارا ہوگا اپنے گھر والوں سے جب کہ اس کا مال بھی ان کے ساتھ ہو ۲؎(مسلم) |
۱؎ یعنی اے میرے صحابہ اس وقت کو غنیمت جانو کہ تم کو میرا دیدار میسر ہے،عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم میرے دیدار کو ترس جاؤ گے اور کہا کرو گے ؎
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع