30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یہ باب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ ہے،اس میں وفات شریف کے متعلق متفرق چیزیں بیان ہوں گی اس لیے اس باب کا ترجمہ مقرر نہیں فرمایا۔
|
5973 -[1] عَن عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا شَاةً وَلَا بَعِيرًا وَلَا أَوْصَى بِشَيْءٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا نہ درہم نہ بکری نہ اونٹ ۱؎ اور نہ کسی چیز کی وصیت فرمائی ۲؎ (مسلم) |
۱؎ یعنی ان چیزوں میں سے کچھ بھی میراث بنا کر نہ چھوڑی جو کچھ چھوڑا وہ وقف فی سبیل اللہ کرکے چھوڑا کہ ان کا وارث کوئی نہ ہو سارے مسلمان فائدہ اٹھائیں۔لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ حضور انور نے اپنے ایک خچر اور قصوا اونٹنی اور نو حجرے اور بنی نضیر کے مال اور فدک باغ چھوڑے کیونکہ یہ سب کچھ وقف فی سبیل اللہ ہوئے کسی وارث کو کچھ نہ ملا۔دیکھ لو کہ نو حجرے روضہ اطہر بنا دیئے گئے،اس میں حضور انور اور جناب صدیق وفاروق کی قبریں بنیں۔مقبرہ وقف ہوتا ہے کسی کی ملک نہیں ہوتا، بقیہ سارے مالوں کا یہ ہی حال ہوا۔کتب تواریخ میں جو آتا ہے کہ حضور انور کی بیس اونٹنیاں بہت سے اونٹ اور سات بکریاں سات بھیڑیں تھیں وہ غلط ہے،اس حدیث نے ان سب کی نفی کردی وہ جانور صدقات کے تھے ان کا حضور انور انتظام فرماتے تھے۔(از مرقات و لمعات)اس کی تصریح ابھی آگے آرہی ہے۔
۲؎ یعنی اپنے کسی مال کی وصیت کسی کے لیے نہیں کی کہ فلاں مال فلاں کو دینا ورنہ حضور انور نے نماز تقویٰ طہارت کی وصیت ساری امت کو فرمائی۔خیال رہے کہ جس مال کی میراث تقسیم نہیں ہوتی اس کی وصیت بھی نہیں ہوسکتی،میراث اور وصیت گویا ہم جنس ہیں۔جب حضور انور کا مال قابل میراث نہیں تو قابل وصیت بھی نہیں۔بعض لوگ ام المؤمنین سے کہتے تھے کہ حضرت علی حضور کے وصی ہیں،آپ نے باغ فدک وغیرہ کی وصیت انہیں کی تھی تو آپ تردید میں فرماتی تھیں کہ حضور انور کا وصال تو میرے سینہ پر ہوا وصیت کس وقت کردی وصال کے وقت تو میں موجود تھی۔
|
5974 -[2] عَن عَمْرو بن الْحَارِث أخي جوَيْرِية قَالَ: مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةً. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عمرو ابن حارث سے جو جناب جویریہ کے بھائی ہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت نہ اشرفی چھوڑی نہ درہم نہ غلام نہ لونڈی ۱؎ نہ کوئی اور چیز سواء اپنے سفید خچر کے ۲؎ اور اپنے ہتھیار ۳؎ اور زمین کے جنہیں وقف فرمایا ۴؎(بخاری) |
۱؎ حضور انور کے جو لونڈی غلام تھے یا تو حضور کی حیات شریف میں وفات پا گئے تھے یا حضور انور نے انہیں آزاد فرمادیا تھا،آپ نے کوئی غلام یا لونڈی نہ چھوڑی۔
۲؎ اس خچر کا نام دلدل تھا ،یہ مقوقش شاہ اسکندریہ نے حضور انور کی خدمت میں تحفہ پیش کیا تھا۔(اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع