30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ یعنی حضرت امام جعفر صادق اپنے والد محمد باقر سےروایت کرتے ہیں کہ ایک قریشی ان کے والد حضرت امام زین العابدین کے پاس آیا۔امام حسین کے تین بیٹے تھے،تینوں کے نام علی تھے علی اکبر،علی اوسط،علی اصغر۔علی اوسط امام زین العابدین ہیں،علی اکبر علی اصغرکربلا میں شہید ہوئے۔
۲؎ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔امام زین العابدین صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں،تابعی کا کسی حدیث کو حضور کی طرف نسبت کرنا ارسال ہے۔
۳؎ یعنی الله تعالٰی نے مرض وفات میں آپ کے سوا کسی کی مزاج پرسی نہیں فرمائی یہ آپ کی خصوصیت ہے۔خیال رہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری میں بھی رب تعالٰی ان کی مزاج پرسی فرماتا تھا جیساکہ تفسیر روح البیان وغیرہ میں ہے اسی لیے آپ صحت یاب ہونے کے بعد اس مزاج پرسی کے بند ہو جانے پر رویا کرتے تھے،فرماتے تھے کہ وہ خطاب بڑا ہی لذیذ ہوتا تھا مگر وہ مزاج پرسی مرض وفات میں نہ تھی لہذا یہ مزاج پرسی حضور کی خصوصیت ہے اور خاصۃ لك فرمانے پر کوئی اعتراض نہیں۔
۴؎ سبحان الله! کیسی بیماری ہے اور کیسی پیاری مزاج پرسی،اس بیماری پر ہزار ہا تندرستیاں قربان ہوں جس میں رب تعالٰی مزاج پوچھے ؎
سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے
۵؎ غم اور کرب یعنی تکلیف میں فرق ظاہر ہے یہ غم و تکلیف اپنی امت اور اپنے دین کے فکر سے تھی کہ میری امت اور میرے دین کا میرے بعد کیا بنے گا۔(اشعۃ اللمعات)لہذا یہ فرمان بے صبری نہیں اور اگر مرض کی تکلیف مراد ہے تب بھی بے صبری نہیں۔تیمار دار جب اپنا غمگسار بھی ہو تو اس سے اپنی تکلیف کا اظہار بے صبری نہیں،یہ عرض رب تعالٰی سے ہے۔ یعقوب علیہ السلام سید الصابرین ہیں مگر فرماتے ہیں"اِنَّمَاۤ اَشْکُوۡا بَثِّیۡ وَحُزْنِیۡۤ اِلَی اللہِ"رب کی بھیجی ہوئی تکلیف مزیدار ہوتی ہے اور اس کی مزاج پرسی زیادہ لذیذ ؎
اب حالت زخم جگری پوچھتے کیا ہو جب تم ہی نمک پاش ہو پھر کیوں نہ مزہ ہو
۶؎ خیال رہے کہ ان تینوں دنوں میں صرف مزاج پرسی کی گئی نہ تو صبر کی تلقین کی گئی نہ تخفیف تکلیف کا وعدہ فرمایا گیا کہ اچھا ہم مرض ہلکا فرمادیں گے۔مطلب یہ ہے کہ مرض ویسا ہی رہے گا ہاں مزاج پرسی فرماتے رہیں گے تاکہ اس کی لذت سے مرض کی تکلیف محسوس نہ ہو۔حسن یوسفی سے مست ہوکر مصری عورتیں ہاتھ کٹنے کی تکلیف محسوس نہ کرسکیں تو خطاب الٰہی کی لذت میں مرض کی تکلیف کا احساس کیا ہو۔
۷؎ اسماعیل فرشتے کا ہیڈکوارٹر پہلا آسمان ہے یعنی آسمان دنیا،یہ فرشتہ جبریل علیہ السلام کے ساتھ ہی آیا تھا اس فرشتہ نے بھی حضور سے حاضری کی اجازت مانگی تھی۔
۸؎ حضرت جبریل اور اسمعیل دونوں فرشتے پہلے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے تھے حضرت عزرائیل علیہ السلام نے بعد میں آنے کی اجازت مانگی۔
۹؎ خیال رہے کہ حضرت ملک الموت نے ان تمام نبیوں کی جان ان کی اجازت سے قبض فرمائی مگر کسی نبی سے ان کے گھر میں آنے کی اجازت نہیں مانگی،یہ حاضری کی اجازت مانگنا حضور کے لیے خاص ہے لہذا حدیث واضح ہے ؎
بے اجازت ان کے گھر میں جبریل آتے نہیں آنکھ والے جانتے ہیں احترام اہلِ بیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع