30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ اس درد کی چمک ان کے سر شریف میں محسوس ہوئی کمال محبت کی وجہ سے جیسے فصد لی لیلی نے اور خون نکلا مجنون عامری کے جسم سے۔(مرقات)اب بھی دیکھا جاتا ہے کہ پردیس میں بیٹا بیمار ہو تو گھر پر ماں کا دل دھڑکتا ہے بلکہ ماں بیمار پڑجاتی ہے، دلی محبت کے انداز نرالے ہیں۔جس امتی کو حضور اب بھی یاد فرماتے ہیں وہ امتی کہیں ہو تڑپنے لگتا ہے جب رب بندے کو عرش پر یاد کرتا ہے تو بندہ رب کی یاد میں دیوانہ ہوتا ہے ؎
گفت الله گفتت لبیک ماست ایں گداز و سوز و درد از پیک ماست
دل کا دل سے عجیب کنکشن ہوتا ہے خدا کرے دل ان محبوب سے لگ جاوے یہ بہاریں دل کے لگنے کی ہیں۔
۴؎ یعنی میرا دل چاہتا ہے کہ ابوبکر صدیق کو ان کے بیٹے عبدالرحمن کے ساتھ ملاکر باقاعدہ ابوبکر کو اپنا خلیفہ جانشین کردوں اور ان کے ولی عہد ہونے کا عبدالرحمن کے گواہ ہونے کا اعلان کردوں۔
۵؎ یعنی ابوبکر صدیق کی خلافت کا ارادہ الٰہی ہوچکا ہے وہ میری خلافت کے لیے منتخب ہو چکے ہیں،نیز مسلمانوں کے دل کہیں گے کہ میرے بعد خلیفہ وہ ہی ہوں اس لیے میں ان کی خلافت کا اعلان نہیں کرتا۔خیال رہے کہ حضور انور نے عملی طور پر حضرت صدیق کو اپنا ولی عہد مقرر کردیا تھا کہ اپنے سامنے آپ کو اپنے مصلےٰ پر کھڑا کردیا مسلمانوں کا امام بنادیا یہ امامت گویا آپ کی دستار خلافت تھی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دستار بندی خود کردی تھی،صراحۃً اعلان نہیں کیا تاکہ ولی عہد بنانے کا یہ بھی ایک طریقہ رہے بلکہ حجۃ الوداع سے ایک سال پہلے حج میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر کو ہی اپنا نائب بنا کر سورۂ توبہ کے احکام کا اعلان کرنے بھیجا کہ آئندہ سے کوئی مشرک حج نہ کرے کوئی ننگا طواف نہ کرے۔ان امور سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت صدیق کا خلافت کے لیے انتخاب الله کی طرف سے تھا،مسلمانوں کا اس پر اجماع ہوا حضور انور نے اس کی عملی وضاحت فرمادی لہذا اس خلافت کا انکار کفر ہے۔خیال رہے کہ اسلام میں جمہوریت بھی ہے اور شخصیت بھی محض جمہوریت لعنت ہے۔اقبال کہتے ہیں ؎
گریز از طرز جمہوری غلام مرد کامل شو کہ از مغزود صد خر فکر انسانے نمی آید
|
5971 -[16] وَعَنْهَا:قَالَتْ:رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَات يومٍ من جنازةٍ مِنَ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ:وَارَأْسَاهْ قَالَ:«بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَارَأْسَاهْ»قَالَ:«وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ؟» قُلْتُ: لَكَأَنِيِّ بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَرَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَعَرَّسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ فَتَبَسَّمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِيءَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ |
روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک جنازہ سے بقیع سے واپس ہوئے ۱؎ تو مجھے پایا کہ میں درد سر محسوس کرتی تھی اور کہتی تھی ہائے رے سر،فرمایا اے عائشہ بلکہ میں کہتا ہوں کہ ہائے رے سر ۲؎ فرمایا کہ تم کو مضر نہیں اگر تم مجھ سے پہلے مرگئیں تو میں تم کو غسل دوں گا کفن پہناؤں گا اور تم پر نماز پڑھوں گا۳؎ اور تمہیں دفن کروں گا میں بولی گویا میں آپ کو محسوس کرتی ہوں خدا کی قسم اگر آپ یہ کرتے تو آپ میرے گھر واپس آئیں گے اس میں بعض بیویوں کے ساتھ آرام کریں گے۴؎ تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مسکرائے پھر آپ کا وہ مرض شروع ہوگیا جس میں آپ کی وفات ہوئی ۵؎ (دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع