30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب ہی مراد ہیں،ان سب لوگوں کے مؤمن ہونے کی قرآن نے گواہی دی لہذا ابو سفیان ہندہ،امیر معاویہ وحشی یہ سب لوگ بحکم قرآن مؤمن ہیں،ان کے ایمان اور دین اسلام میں داخل ہونے کی خبر تو قرآن نے دی ان کے ایمان سے نکل جانے کی کوئی آیت نہیں ہے،نیز اگر یہ لوگ آئندہ مرتد ہوجانے والے ہوتے تو ان کے ایمان لانے پر حضور کو شکر کا حکم نہ دیا جاتا۔خیال رہے کہ الله تعالٰی نے صحابہ کرام کو حضرات انبیاء سے بہت ہی مناسبت دی ہے۔چنانچہ کل انبیاءکرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں رسول تین سو تیرہ ہیں مرسل چار اور مرسلین میں سردار مرسلین ایک ہیں یعنی محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم،اسی طرح حضرات صحابہ کرام ایک لاکھ چوبیس ہزار ان میں اصحابِ بدر تین سو تیرہ ہیں اور خلفاء راشدین چار ہیں اور سید الخلفاء ایک یعنی حضرت ابوبکر صدیق۔
۷؎ یعنی علم و ایمان یمن کا پیارا ہے کیوں نہ ہو کہ وہ علاقہ حجاز سے متصل داہنی طرف واقع اس لیے اسے یمن کہتے ہیں،یمین سے مشتق ہے وہ عشاق رسول کا علاقہ ہے۔چنانچہ حضرت اویس قرنی یمن ہی کے ہیں رضی الله عنہ،ابو موسیٰ اشعری یمن کے ہیں بلکہ حضرات انصار بھی اصل میں یمن ہی کے باشندے ہیں بعد میں مدینہ میں بسے۔حدیث شریف میں ہے انی لاجدنفس الرحمن من جانب الیمن،فتوحات مکہ شریف میں اس حدیث کے یہ ہی معنی بیان کیے۔(اشعۃ اللمعات، مرقات)
|
5970 -[15] وَعَن عَائِشَة أَنَّهَا قَالَت: وَا رأساه قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَاكِ لَوْ كَانَ وَأَنَا حَيٌّ فَأَسْتَغْفِرُ لَكِ وَأَدْعُو لَكِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاثُكْلَيَاهْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ مَوْتِي فَلَوْ كَانَ ذَلِكَ لَظَلِلْتَ آخِرَ يَوْمِكَ مُعْرِسًا بِبَعْضِ أَزْوَاجِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: " بل أَنا وَا رأساه لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ أَرَدْتُ أَنْ أُرْسِلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَابْنِهِ وَأَعْهَدُ أَنْ يَقُولَ الْقَائِلُونَ أَوْ يَتَمَنَّى الْمُتَمَنُّونَ ثُمَّ قُلْتُ: يَأْبَى اللَّهُ وَيَدْفَعُ الْمُؤْمِنُونَ أَوْ يَدْفَعُ اللَّهُ وَيَأْبَى الْمُؤْمِنُونَ ". رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انہوں نے کہا ہائے میرا سر تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ ہوگیا اور میں زندہ ہوا تو تمہارے لیے دعائے مغفرت کروں گا ۱؎ تو جناب عائشہ بولیں ہائے ہلاکت رب کی قسم میں آپ کے متعلق گمان کرتی ہوں کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اگر ایسا ہوگیا تو آپ اس دن کے آخر میں اپنی بعض بیویوں سے آرام فرمائیں گے۲؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا بلکہ ہائے میرا سر۳؎ میں نے قصد یا ارادہ کیا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلاؤں اور ولی عہدکروں اس خطرہ سے کہ کہنے والے کہیں یا تمنا کرنے والے تمنا کریں۴؎ پھر میں نے سوچا کہ الله انکار کرے گا اورمسلمان دفع کریں گے یا الله دفع کرے گا اور مسلمان انکارکریں گے ۵؎ (بخاری) |
۱؎ حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ کے سر میں درد تھا،انہوں نے فرمایا ہائے میرا سر پھٹا جارہا ہے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اس مرض سے وفات پاگئیں تو ہم تمہارے لیے دعاءمغفرت کریں گے،تمہاری نماز جنازہ پڑھائیں گے۔ (مرقات)
۲؎ یعنی آپ میری موت کے دن ہی مجھے بھول جائیں گے،مجھے دفن کرنے کے بعد اسی دن دوسری بیوی کے ساتھ آرام فرمائیں گے میں اپنی جان سے جاؤں گی،یہ کلام اور یہ شکایت محبوبانہ ہے،پیاروں کی پیاروں سے شکایت کے انداز نرالے ہوتے ہیں۔
۳؎ یعنی اے عائشہ تمہارے درد سر کو تو ان شاءالله آرام ہوجائے گا۔درد سرابھی ابھی مجھے شروع ہوا ہے،یہ درد مرض وفات کی ابتداء ہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ درد سر اصل میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو تھا اس کا اثر حضرت عائشہ صدیقہ پر ہوا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع