دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5968 -[13]

وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ حَتَّى أَهْوَى نَحْوَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي؟ لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هَذَا» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ» قَالَ: فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى ثُمَّ قَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وأمَّهاتِنا وأنفسنا وأموالِنا يَا رسولَ الله قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں ہمارے سامنے آئے جس میں آپ کی وفات ہوئی ہم لوگ مسجد میں تھے آپ ایک کپڑے سے پٹی باندھے آئے ۱؎ حتی کہ منبر کیطرف تشریف لے گئے اس پر جلوہ گر ہوئے ہم حضور کے پیچھے ہوگئے ۲؎ فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں اپنی اس جگہ سے حوض کو دیکھ رہا ہوں۳؎ پھر فرمایا کہ ایک بندہ پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کرلیا۴؎ فرماتے ہیں کہ یہ بات سواء ابو بکر کے کوئی نہیں سمجھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں پھر عرض کیا بلکہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ اپنی جانیں اپنے مال فدا کریں گے یارسول الله، فرماتے ہیں کہ پھر آپ اترے پھر منبر پر اس گھڑی تک نہ کھڑے ہوئے ۵؎ (دارمی)

۱؎ حضور انور کو بخار اور درد سرتھا انہیں بیماریوں میں وفات شریف واقع ہوئی درد سر کی وجہ سے پٹی باندھی تھی۔معلوم ہوا کہ درد میں پٹی وغیرہ باندھنا توکل کے خلاف نہیں نہ اس میں رب تعالٰی کی شکایت ہے یہ تو ایک قسم کا علاج ہے۔

۲؎ یعنی ہم سب مسجد نبوی میں متفرق طور پر بیٹھے ہوئے تھے حضور انور کے پیچھے پیچھے ہولئے اور منبر شریف کے قریب جمع ہو کر بیٹھ گئے تاکہ با آسانی کلام مبارک سن سکیں۔سبحان الله! کیا نظارہ ہوگا جیسے شمع کے اردگرد پروانے جمع ہیں۔

۳؎ اس فرمان عالی کے متعلق ابھی کچھ پہلے عرض کیا جاچکا ہے۔حضور انور کامنبر شریف حوض کوثر کے بالمقابل ہے،حضور نے منبر پر کھڑے ہوکر خبر دی کہ میں اپنا حوض کوثر یہاں سے دیکھ رہا ہوں۔اس حدیث سے حضور کی نظر کی وسعت ثابت ہوئی۔ہماری نظر میں دور بین لگادی جاوے تو میلوں تک دیکھ لیتی ہے تو جن کی آنکھ پر نبوت کی دور بین ہو وہ کہاں تک دیکھیں گے،پھر یہ نہ فرمایا کہ اس کے بعد میں حوض نہ دیکھوں گا دیکھنے کا ثبوت تو ہے پھر چھپ جانے کا ثبوت نہیں۔

۴؎ یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضور انور کی خدمت میں جبریل امین نے حاضر ہوکر عرض کیا کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ اگر آپ چاہیں تو دنیا میں رہیں،ہم دنیا کے خزانے آپ کو دے دیں اور یہاں کے پہاڑوں کو سونا چاندی بنادیں،ان آسائشوں سے آپ کا ثواب آخرت بالکل کم نہ ہوگا اگر آپ چاہیں تو ہمارے پاس تشریف لائیں،حضور انور کا ایک غلام اس وقت موجود تھا اس نے عرض کیا ابھی کچھ عرصہ حضور ہمارے پاس رہیں تاکہ ہم حضور سے نفع حاصل کرلیں آپ کے سایہ میں رہیں تب حضور انور نے جناب جبریل کی طرف بطور مشورہ نظر کی اور فرمایا کہ ہم اب وہاں ہی جانا چاہتے ہیں۔(اشعۃ اللمعات)

۵؎ ساعۃ سے مراد یہ گھڑی ہے یا قیامت یعنی حضور اس گھڑی تک یا قیامت تک پھر منبر پرتشریف نہیں لائے بلکہ وفات واقع ہوگئی۔

5969 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ [إِذَا جَاءَ نصر الله وَالْفَتْح] دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ قَالَ: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَتْ قَالَ: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقٌ بِي» فَضَحِكَتْ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ:يَا فَاطِمَةُ رَأَيْنَاكِ بَكَيْتِ ثُمَّ ضَحِكْتِ.قَالَتْ: إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيْهِ نَفْسُهُ فَبَكَيْتُ فَقَالَ لِي:لَا تبْكي فإِنك أوَّلُ أَهلِي لاحقٌ بِي فضحكتُ.وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«إِذَا جَاءَ نصرُ الله وَالْفَتْح وَجَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً وَالْإِيمَانُ يمانٍ وَالْحكمَة يَمَانِية» . رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب آیت اذا جاء نصر الله،الخ نازل ہوئی تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جناب فاطمہ کو بلایا فرمایا مجھے اپنی موت کی خبر دے دی گئی ۱؎ وہ روئیں تو فرمایا مت روؤ کیونکہ میرے گھر والوں میں سے پہلے مجھ سے تم ملوگی ۲؎ آپ ہنس پڑیں۳؎ انہیں نبی صلی الله علیہ وسلم کی بعض بیویوں نے دیکھ لیا وہ بولیں اے فاطمہ ہم نے تم کو دیکھا کہ تم روئیں پھر ہنس پڑیں۴؎ آپ بولیں کہ حضور نے مجھے خبر دی کہ آپ کو آپ کی وفات کی خبر دی گئی تو میں رونے لگی تو فرمایا مت روؤ کیونکہ تم میرے سب گھر والوں سے پہلے مجھ سے ملوگی تو میں ہنس پڑی ۵؎ اور رسول الله نے فرمایا کہ اذا جاء نصر الله و الفتح،الخ اور یمن والے آئے ۶؎ وہ دلوں کے نرم ہیں ایمان تو یمن والوں کا ہے اور حکمت یمن والی ۷؎ (دارمی)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن