30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5967 -[12] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ. فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: إِنِّي لَا أَبْكِي أَنِّي لَا أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى خَيْرٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجعلَا يَبْكِيَانِ مَعهَا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر نے جناب عمر سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد فرمایا کہ ہم کو ام ایمن کے پاس لے چلو ۱؎ ہم ان کی ملاقات کریں جیسے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی ملاقات فرماتے تھے ۲؎ تو جب ہم ان تک پہنچے۳؎ تو وہ رونے لگیں ان سے ابوبکر صدیق نے کہا کہ آپ کو کیا چیز رلاتی ہےکیا آپ نہیں جانتی کہ الله کے پاس کی نعمتیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بہتر ہیں۴؎ وہ بولیں کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ میں یہ نہیں جانتی کہ الله کے پاس کی نعمتیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے لیے بہتر ہیں مگر میں تو اس لیے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی آنا بندہوگئی ۵؎ انہوں نے ان دونوں کو بھی رونے پر بھڑکا دیا وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے ۶؎ (مسلم) |
۱؎ جناب ام ایمن کا نام شریف برکت ہے حبشہ کی تھیں،حضرت عبدالله یعنی حضور کے والد ماجد کی لونڈی تھیں،حضور کی پرورش انہوں نے بھی کی ہے،حضور انورنے آپ کا نکاح حضرت زید ابن حارثہ سے کردیا تھا،انہیں کے بطن شریف سے حضرت اسامہ ابن زید پیدا ہوئے،آپ جہادوں میں جاتیں تھیں زخمیوں کی مرہم پٹی غازیوں کی خدمت کرتی تھیں،حضرت عمر فاروق کی وفات سے بیس دن بعد آپ کی وفات ہوئی،حضرت زید ابن حارثہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے غلام بن گئے تھے،حضور انور نے جناب خدیجہ سے انہیں مانگ لیا اور آزاد کرکے اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا۔ (مرقات)
۲؎ یعنی حضور انور صلی الله علیہ وسلم جناب ام ایمن کی ملاقات کے لیے انکے گھر تشریف لے جایا کرتے تھے چلو ہم بھی اس سنت پر عمل کریں ام ایمن کی زیارت کریں۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کی وفات کے بعد ان کے معمولات قائم رکھنا،ان کے دوستوں سے محبت کرنا،بلکہ جن کی وہ حضرات ملاقات کرتے ہوں ان سے ملاقات کے لیے جانا سنتِ صحابہ ہے۔
۳؎ مشکوۃ کے عام نسخوں میں فلما انتھینا ہے جمع متکلم سے تو اس میں حضرت انس بھی شامل ہیں یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ جب ہم تینوں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور عمرفاروق ام ایمن کے پاس پہنچے۔بعض نسخوں میں ہے۔فلما انتھیاتثنیہ مذکر غائب ہے یعنی جب وہ دونوں صدیق و فاروق ام ایمن کے پاس پہنچے بہرحال ان بزرگوں کو دیکھ کر ام ایمن کو حضور صلی الله علیہ وسلم یاد آگئے کیونکہ یہ دونوں حضرات حضور کے ساتھی اور خاص محبوب دوست تھے۔بعد وفات مرحوم کی چیزیں،اس کی اولاد،اس کے دوست دیکھ کر مرحوم یاد آتا ہے اور لوگ رونے لگتے ہیں یہ رونا ایسا ہی تھا۔
۴؎ یعنی جہاں حضور اب ہیں وہ جگہ دنیا سے بہتر ہے کہ یہاں تکالیف تھیں وہاں آرام و راحت ہے،وہاں ہر وقت اپنے رب سے قرب خاص حاصل ہے پھر تم اتنی بے قرار ہوکر روتی کیوں ہو۔
۵؎ یعنی میرا رونا اپنی محرومی پر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے ہم الله کی بہت نعمتوں سے محروم ہوگئے، آیاتِ قرآنیہ کا آنا بند ہوگیا،احادیث نبویہ کا سلسلہ ختم ہوگیا،مسلمانوں کا صحابی بننا ختم ہوگیا،حضور سب کچھ ہم کو دے گئے مگر یہ چیزیں اپنے ساتھ لے گئے ؎
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد روئے گل سیر نہ دیدیم بہار آخرشد
اب حضرت جبریل کیوں آئیں گے اور کہاں آئیں گے۔
۶؎ یعنی یہ سن کر حضرت صدیق و فاروق اعظم بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے یہ رونا تو امت کو قیامت تک رہے گا کہ کسے دیکھ کر صحابی بنیں گے،کس کے منہ سے آیات و احادیث کے پھول جھڑتے ہوئے دیکھیں،حضرت بلال یہ ہی سوچ کر مدینہ چھوڑکر دمشق چلے گئے کہ اب میں کس کی طرف اشارہ کرکے اذان کہا کروں گا۔حالت یہ ہو گئی تھی کہ ؎
قافلہ سالار سفر کر گیا قافلہ کو زیر و زبر کر گیا
|
5968 -[13] وَعَن أبي سعيد الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ عَاصِبًا رَأْسَهُ بِخِرْقَةٍ حَتَّى أَهْوَى نَحْوَ الْمِنْبَرِ فَاسْتَوَى عَلَيْهِ وَاتَّبَعْنَاهُ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي؟ لَأَنْظُرُ إِلَى الْحَوْضِ مِنْ مَقَامِي هَذَا» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَيْهِ الدُّنْيَا وَزِينَتُهَا فَاخْتَارَ الْآخِرَةَ» قَالَ: فَلَمْ يَفْطِنْ لَهَا أَحَدٌ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى ثُمَّ قَالَ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وأمَّهاتِنا وأنفسنا وأموالِنا يَا رسولَ الله قَالَ: ثُمَّ هَبَطَ فَمَا قَامَ عَلَيْهِ حَتَّى السَّاعَة. رَوَاهُ الدَّارمِيّ |
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں ہمارے سامنے آئے جس میں آپ کی وفات ہوئی ہم لوگ مسجد میں تھے آپ ایک کپڑے سے پٹی باندھے آئے ۱؎ حتی کہ منبر کیطرف تشریف لے گئے اس پر جلوہ گر ہوئے ہم حضور کے پیچھے ہوگئے ۲؎ فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ میں اپنی اس جگہ سے حوض کو دیکھ رہا ہوں۳؎ پھر فرمایا کہ ایک بندہ پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی تو اس نے آخرت کو اختیار کرلیا۴؎ فرماتے ہیں کہ یہ بات سواء ابو بکر کے کوئی نہیں سمجھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں پھر عرض کیا بلکہ ہم آپ پر اپنے ماں باپ اپنی جانیں اپنے مال فدا کریں گے یارسول الله، فرماتے ہیں کہ پھر آپ اترے پھر منبر پر اس گھڑی تک نہ کھڑے ہوئے ۵؎ (دارمی) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع