30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
5966 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا حُضِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلُمُّوا أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ» . فَقَالَ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ حَسْبُكُمْ كِتَابُ اللَّهِ فَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم. وَمِنْهُم يَقُولُ مَا قَالَ عُمَرُ. فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُومُوا عَنِّي» . قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَكَانَ ابنُ عباسٍ يَقُول: إِن الرزيئة كل الرزيئة مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيَّنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ لِاخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ وَفِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَحْوَلِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَوْمُ الْخَمِيسِ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ ثُمَّ بَكَى حَتَّى بَلَّ دَمْعُهُ الْحَصَى. قُلْتُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ؟ قَالَ: اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِكَتِفٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا» . فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ. فَقَالُوا: مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ؟ اسْتَفْهِمُوهُ فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ. فَقَالَ: «دَعُونِي ذَرُونِي فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونَنِي إِلَيْهِ» . فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ: فَقَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» . وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ أَوْ قَالَهَا فَنَسِيتُهَا قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا مِنْ قَول سُلَيْمَان. |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا وقت وفات آیا ۱؎ اور گھر میں کچھ لوگ تھے جن میں حضرت عمر ابن خطاب بھی تھے ۲؎ تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی نہ بہکو ۳؎ تو حضرت عمر نے کہا کہ آپ پر تکلیف کا غلبہ ہے اور تمہارے پاس قرآن موجود ہے تم کو الله کی کتاب کافی ہے۴؎ گھر والے اختلاف کر بیٹھے جھگڑنے لگے ۵؎ بعض کہتے تھے کہ پیش کرو تاکہ تمہارے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم تحریر لکھ دیں،بعض تھے جو وہ ہی کہتے تھے جو حضرت عمر نے کہا،پھر جب انہوں نے شور اور اختلاف زیادہ کیا ۶؎ تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ ۷؎ عبید الله کہتے ہیں ۸؎ کہ حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ پوری مصیبت وہ تھی جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور آپ کی تحریر فرمانے کے درمیان حائل ہوگئی ان کے اختلاف اور شور کی وجہ سے ۹؎ اور سلیمان ابن ابی مسلم احول کی روایت میں ہے۱۰؎ کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ہائے جمعرات کا دن اور کیا ہی تھا جمعرات کا دن پھر آپ روئے حتی کہ آپ کے آنسو نے کنکر تر کردیئے میں نے کہا اے ۱۱؎ ابن عباس جمعرات کا دن کا کیا ہے، فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر آپ کی بیماری سخت ہوگئی تو فرمایا کہ میرے پاس کندھے کی ہڈی لاؤ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں کہ تم اس کے بعد کبھی بہکو گے نہیں مگر لوگ جھگڑ پڑے نبی کے پاس جھگڑا نہیں چاہیے ۱۲؎ تو لوگ بولے کہ حضور کا خیال مبارک کیا ہے کیا آپ پریشان باتیں کررہے ہیں آپ سے پوچھ لو۱۳؎ چنانچہ وہ آپ سے بار بار پوچھنے لگے۱۴؎ تو فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو جس میں میں مشغول ہوں وہ اس سے اچھا ہے جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ۱۵؎ پھر ان کو تین چیزوں کا حکم دیا ۱۶؎ مشرکوں کو جزیرہ عرب سے نکالو ۱۷؎ وفود کو ان کا حق دو جیساکہ انہیں ہم دیا کرتے تھے ۱۸؎ اور تیسری سے خاموشی فرمائی یا حضور نے وہ بات کہی مگر میں بھول گیا ۱۹؎ سفیان کہتے ہیں کہ یہ سلیمان کا قول ہے۔(مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی زمانہ وفات قریب ہوا،یہ واقعہ جمعرات کے دن کا ہے اور وفات شریف دوشنبہ یعنی پیر کو ہے تو یہ واقعہ وفات سے پانچ دن پہلے کا ہے۔
۲؎ یہ تمام حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیمار پرسی کرنے آئے تھے اسی جماعت میں حضرت ابن عباس،حضرت علی وغیرہم بھی تھے رضی الله عنہم۔
۳؎ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم تین چیزوں سے مععصوم ہیں: گناہ سے خصوصًا جھوٹ سے،شرعی احکام بدلنے سے، شرعی حکم چھپانے سے اور مخلوق تک نہ پہنچانے سے حتی کہ جب حضور انور پر جادو ہوا تب بھی آپ کوئی عبادت کوئی حکم شرعی نہ بھولے اور نہ تبدیل فرماسکے لہذا آج جو حکم لکھنا چاہتے تھے وہ ہی تھا جو تندرستی شریف میں بیان کرچکے تھے کوئی نئی چیز نہ تھی۔اس میں گفتگو ہے کہ حضور انور اس وقت کیا لکھنا چاہتے تھے،بعض کے نزدیک نماز کی تاکید،لونڈی غلاموں سے اچھا سلوک،مہمانوں سے اچھا برتاؤ۔بعض کے نزدیک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت نامہ جس کا ذکر ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ سے کیا بھی تھا کہ ابوبکر کو بلاؤ میں ان کے لئے خلافت لکھ دوں،پھر فرمایا چھوڑو کوئی ضرورت نہیں الله تعالٰی اور مسلمان ابوبکر کے ہوتے کسی کو خلیفہ نہ بنائیں گے،پھر عملی طور پر آپ کو خلیفہ بنا بھی دیا کہ اپنے مصلے پر امام بنا کر کھڑا کر دیا۔یہ امامت صغریٰ آپ کی امامت کبریٰ کی دلیل ہے جیسے کہ کسی بزرگ کا اپنے کسی خلیفہ کو دستار بندی کردینا،سجادہ پر بٹھا دینا۔شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کو خلافت لکھنا چاہتے تھے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں،اگر یہ ارادہ ہوتا تو حضور کسی کی نہ مانتے ضرور لکھواتے،نیز ابھی وفات میں پانچ دن باقی تھے اس دوران میں فرمادیتے یا لکھوادیتے،نیز شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت قطعی اور منصوص ہے کہ غدیر خم پر حضور انور نے انہیں اپنا خلیفہ مقرر کردیا تھا اس صورت میں شیعہ حضرات کی یہ توجیہ درست نہیں۔
۴؎ یہ حضرت عمر کی قوت اجتہاد ہے کہ آپ سمجھ گئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کایہ حکم شرعی نہیں ہے بلکہ مشورہ ہے اور حضور انور وہ ہی کوئی چیزلکھوائیں گے جو پہلے حضور نے ہم کو بتادی سمجھادی ہے محض کرم کریمانہ سے اس تکلیف کے باوجود لکھوانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔عرض کرو کہ ہم نے حضور سے سب کچھ سیکھ لیا ہے اب حضور اس تکلیف کی زحمت نہ فرمائیں لہذا یہ عرض حضور کے حکم کی مخالفت نہیں،رب تعالٰی نے فرشتوں کو ایک خلیفہ کے تقرر کا اعلان فرمایا تو فرشتوں نے اس پر سلمنا نہیں کہا بلکہ اپنی رائے پیش کردی کہ ہم کو ہی خلافت دی جائے۔یہ امر الٰہی کی مخالفت نہ تھی بلکہ مشورہ میں رائے پیش کرنا تھی۔اس فرمان کا مقصد یہ بھی ہے کہ اے گروہ صحابہ تم کو قرآن مجید کافی ہے،حدیث شریف کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا قرآن تم کو سمجھادیا ہے اس سے حدیث کا انکار مقصود نہیں۔
۵؎ اہلِ بیت سے مراد اس گھر میں موجود لوگ ہیں ازواج یا اولاد مراد نہیں۔ اختلاف سے مراد یہ ہے کہ بعض نے کہا کہ کاغذ اور دوات قلم لاؤ،بعض نے کہا کہ نہ لاؤ یعنی اختلاف رائے سے لڑنا بھڑنا مراد نہیں۔
۶؎ لغط وہ آواز جس کے الفاظ سمجھ میں نہ آئیں،جب چند شخص بیک وقت بولیں تو یہی حال ہوتا ہے۔خیال رہے کہ اس وقت ان لوگوں میں سے کوئی بھی شور نہیں مچا رہا تھا بلکہ چند ہلکی آوازیں مل کر شور بن گئیں جیساکہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے یا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع