دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5964 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيح:«لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ».قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ ورأسُه على فَخذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرُهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ:«اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» . قُلْتُ: إِذَنْ لَا يَخْتَارُنَا.قَالَتْ: وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: «إِنَّهُ لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «اللَّهُمَّ الرفيق الْأَعْلَى» .

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی تندرستی میں فرماتے تھے کہ الله تعالٰی کسی نبی کو وفات نہیں دیتا حتی کہ انہیں ان کاجنتی مقام دکھا دیا جائے ۱؎ پھر انہیں اختیار دیا جاوے،جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ جب حضور پر نزع طاری ہوا اور آپ کا سر میری ران پر تھا ۲؎ تو آپ پر غشی آگئی پھر افاقہ ہوا تو اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی پھر فرمایا لٰہی میں نے اوپر کے ساتھی قبول کیے۳ ؎میں بولی کہ اب حضور ہم کو نہیں اختیارکریں گے فرماتی ہیں کہ میں پہچان گئی کہ یہ وہ ہی حدیث ہے جو حضور ہم کو اپنی تندرستی میں خبر دیتے تھے۴؎ اس فرمان کے متعلق کہ کوئی نبی وفات نہیں دیا جاتا حتی کہ اسے اس کا جنتی مقام دکھادیا جاتا ہےپھر اختیار دیا جاتا ہے جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری بات جو حضور نے کی وہ یہ ہی تھی کہ میں نے اپنے اوپر کے ساتھی قبول کیے۔(مسلم و بخاری)

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ نبی کو بیداری میں ان کا جنتی مقام دکھاکر انہیں اختیار دیا جاتا ہےاور یہ اختیار دینا ان کی عظمت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے ورنہ رب ان کے وقت موت کو جانتا ہے اور وہ حضرات وہ ہی اختیار کرتے ہیں جو رب کا فیصلہ ہے۔(اشعہ)

۲؎ پہلے حضور کا جسم اطہر جناب عائشہ صدیقہ کی گود میں اور سر شریف آپ کے سینہ پر تھا،چونکہ اس طرح جانکنی میں تکلیف ہوتی ہے اس لیے عین قبض روح کے وقت حضور انو ر کو سیدھا قبلہ رو لٹایا گیا اور سر شریف ام المؤنین کی ران پر رکھا لہذا یہ حدیث اس گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میرے سینے اور گلے کے درمیان ہوئی۔

۳؎ رفیق اعلیٰ یعنی اوپر کے ساتھیوں کے متعلق بیان کیا جاچکا ہے۔بعض شارحین کا خیال ہے کہ حضور کے چار ساتھی زمین کے ہیں یعنی خلفاء راشدین اور چار ساتھی آسمان کے: حضرت جبریل،میکائیل،اسرافیل،عزرائیل علیہم السلام یہاں رفیق اعلیٰ سے وہ مراد ہیں۔واللّٰہ ورسولہ اعلم!

۴؎ یعنی اس حدیث کا ظہور اب ہورہا ہے۔

5965 -[10]

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: «يَا عَائِشَةُ مَا أَزَالُ أَجِدُ أَلَمَ الطَّعَامِ الَّذِي أَكَلْتُ بِخَيْبَرَ وَهَذَا أَوَانُ وَجَدْتُ انْقِطَاعَ أَبهري من ذَلِك السم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہیں سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنے اس مرض میں فرماتے تھےجس میں وفات پائی کہ اے عائشہ میں اس کھانے کا اثرپاتا رہتا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا ۱؎ اور یہ وہ وقت ہے کہ میں اپنا دل کی رگ کا ٹوٹنا اس زہر سے محسوس کر رہا ہوں ۲؎ (بخاری)

۱؎ یعنی ایک یہودیہ نے بکری کے گوشت میں ہم کو زہر کھلادیا تھا خیبر میں اس وقت سے آج تک ہر سال اس زہر کا اثر ظاہر ہوتا رہتا ہے،اس وقت وفات نہ ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا،ہر سال تکلیف ہوتے رہنا حضور کے اجر کی زیادتی کے لیے تھا کہ ہر سال آپ کو تکلیف کا ثواب ملتا رہا ۔

۲؎  أبھر یا تو دل کی رگ کو کہتے ہیں یا گردن کی رگ کو،یا وہ شہہ رگ جو سر سے پاؤں تک پھیلی ہوئی ہے۔ان میں سے کسی رگ کا ٹوٹ جانا موت کا باعث ہوتا ہے۔اس وقت وہ زہر لوٹا تاکہ آپ کو شہادت حکمی عطا ہو زہر سے موت شہادت ہے۔ غرضکہ حضور انور کی وفات زہر کے عود کرنے سے ہوئی اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق کی وفات اس وقت سانپ کے زہر لوٹ آنے سے ہوئی جس نے ہجرت کی رات غار میں آپ کو کاٹا تھا،حضرت صدیق کو فنا فی الرسول کا وہ درجہ حاصل ہے کہ آپ کی وفات بھی حضور انور کی وفات کا نمونہ ہے،پیر کے دن میں حضور کی وفات اور پیر کا دن گزار کر شب میں حضرت صدیق کی وفات،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن شب کو چراغ میں تیل نہ تھا حضرت صدیق کی وفات کے وقت گھر میں کفن کے لیے پیسے نہ تھے یہ ہے فنا،رضی الله عنہ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن