30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ صحابہ نے پہلے تو حضرت صدیق اکبر سے پوچھاکہ کیا حضور انور کو دفن کیا جاوے گا فرمایا ہاں،پھر پوچھا کہ کہاں،فرمایا وہاں ہی جہاں وفات ہوئی ہے۔(شمائل مرقات)
۳؎ یعنی جس جگہ الله تعالٰی کو یا ان رسول کو دفن ہونا پسند تھا وہاں ہی ان کو وفات دی گئی لہذا رب کو یہی پسند ہے کہ حضور انور حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہوں تاکہ آپ سے جگہ کو عزت ملے کسی جگہ سے آپکو عزت نہ ملے۔خیال رہے کہ حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ مجھے فلسطین پہنچاکر وفات دی جاوے چنانچہ وہاں ہی آپ کی وفات اور آپ کا دفن واقع ہوئے۔ یوسف علیہ السلام اولًا مصر میں دفن ہوئے اپنی جائے وفات میں،پھر چار سو برس کے بعد آپ کا تابوت فلسطین لایا گیا۔یعقوب علیہ السلام زندگی شریف میں فلسطین پہنچے پھر وہاں وفات پاکر دفن ہوئے لہذا ان واقعات سے اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ یہ حضرات اپنی وفات کی جگہ دفن نہ ہوئے یا یہ کہو کہ نبی جس جگہ وفات پائیں اس جگہ انکا دفن ہونا بہتر ہے،اگر اور جگہ دفن کردیئے جائیں تو بہتر نہ ہوگا غرضکہ یہاں ذکر بہتری کا ہے نہ کہ واقع کا ۔
۴؎ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے کہ حضور انور اپنے گھر میں دفن ہوئے کیونکہ آپ کا گھر آپ کی وفات کے بعد کسی وارث کی ملک نہ بنا بلکہ وقف ہوگیا اور وقف میں قبر بنائی جاسکتی ہے،پھر حضرت صدیق و فاروق اس وقف شدہ جگہ میں حضور کے پہلو میں دفن ہوئے۔ہم لوگ اپنے گھر میں دفن نہیں ہوسکتے یوں ہی ہم مسجد میں دفن نہیں ہوسکتے کہ مسجد اور قسم کا وقف اور قبر دوسری قسم کا وقف۔
۵؎ ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد میں عبدالرحمن ابن ابوبکر ملکی یہ ضعیف ہے۔(مرقات)مگر یہ ضعف ترمذی کے لیے ہے صدیق اکبر کے لیے نہیں کیونکہ یہ حدیث دوسری اسنادوں سے بھی مروی ہے۔مالک نے یہ حدیث یوں روایت کی کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض لوگوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر شریف کے پاس دفن کرو، بعض نے کہا کہ بقیع میں تب جناب صدیق نے یہ فرمایا اور حجرہ عائشہ صدیقہ میں قبر کھودی گئی۔(مرقات)
|
5964 -[9] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ صَحِيح:«لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ».قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا نَزَلَ بِهِ ورأسُه على فَخذِي غُشِيَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَفَاقَ فَأَشْخَصَ بَصَرُهُ إِلَى السَّقْفِ ثُمَّ قَالَ:«اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» . قُلْتُ: إِذَنْ لَا يَخْتَارُنَا.قَالَتْ: وَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَدِيثُ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ: «إِنَّهُ لَنْ يُقْبَضَ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرَ» قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «اللَّهُمَّ الرفيق الْأَعْلَى» . |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اپنی تندرستی میں فرماتے تھے کہ الله تعالٰی کسی نبی کو وفات نہیں دیتا حتی کہ انہیں ان کاجنتی مقام دکھا دیا جائے ۱؎ پھر انہیں اختیار دیا جاوے،جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ جب حضور پر نزع طاری ہوا اور آپ کا سر میری ران پر تھا ۲؎ تو آپ پر غشی آگئی پھر افاقہ ہوا تو اپنی نظر چھت کی طرف اٹھائی پھر فرمایا لٰہی میں نے اوپر کے ساتھی قبول کیے۳ ؎میں بولی کہ اب حضور ہم کو نہیں اختیارکریں گے فرماتی ہیں کہ میں پہچان گئی کہ یہ وہ ہی حدیث ہے جو حضور ہم کو اپنی تندرستی میں خبر دیتے تھے۴؎ اس فرمان کے متعلق کہ کوئی نبی وفات نہیں دیا جاتا حتی کہ اسے اس کا جنتی مقام دکھادیا جاتا ہےپھر اختیار دیا جاتا ہے جناب عائشہ فرماتی ہیں کہ آخری بات جو حضور نے کی وہ یہ ہی تھی کہ میں نے اپنے اوپر کے ساتھی قبول کیے۔(مسلم و بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع