دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

جلوس نکالنا اور جلوس کے آگے تلوار نیزہ گتکہ پٹا وغیرہ لےکر کرتب دکھانا سب جائز ہے۔جس طریقہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کی جائےدرست ہے۔اس موقع پر بنی نجار کی بچیاں بھی دف بجاتی تھیں اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرکے گاتی تھیں،حضور انور صلی الله علیہ وسلم کی خوشی میں شریک ہونا اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔

۲؎ یہ عبارت بالکل ظاہری معنی پر ہے اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ واقعی اس دن سورج نکلا تھا دھوپ بھی تھی مگر سورج میں بھی تاریکی اور سیاہی تھی اور دھوپ میں بھی وفات شریف کا اثر ہر درودیوار پر ظاہر تھا۔یہ غلط احساس نہ تھا کیوں نہ ہوتا کہ یہ فراق رسول کا دن ہے جیسے شہادت امام حسین کے روز سارا دن سرخ خونی رنگ تھا اورجو پتھر وغیرہ اٹھایا گیا اس کے نیچے خون نمودار ہوا۔

۳؎ یہ چمک دھوپ سے نہ تھی بلکہ قدرتی نورانیت تھی جو بیان میں نہیں آسکتی صرف دیکھنے سے ہی تعلق رکھتی ہے جیسے قیامت میں نورانی چمک ہوگی،رب فرماتاہے:"وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا"۔آج بھی بعض اہلِ بصر باخبر حضرات کو کبھی یہ تجلی ربیع الاول کی بارہویں تاریخ دن میں بلکہ رات میں بھی اور شبِ قدر میں نظر آتی ہے۔فرق یہ ہے کہ اس دن وہ تجلی سب کو نظر آتی تھی اب کسی قسمت والے کو نظر آتی ہے،یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ چمک محسوس تھی۔

۴؎ یعنی ابھی ہم حضور انور کے دفن سے فارغ نہیں ہوئے تھےکہ ہمارے دلوں میں وہ نورانیت،صفائی،نرمی رغبت الی الله نہ رہی جوکہ حضور کی حیات شریف میں تھی کیونکہ اب وحی آنا بند ہوگئی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال کا مشاہدہ ختم ہوگیا، تعلیم و تائید ظاہری انتہاء کو پہنچ گئی۔(مرقات و اشعہ)غرضکہ ایمانی حالت تصدیق میں فرق آنا مراد نہیں۔خیال رہے کہ حضور سب کچھ دے گئے مگر اپنا دیدار ساتھ لے گئے جس سے لوگ صحابی بنتے تھے اس لیے تاقیامت حاجی،قاری،قاضی نمازی بنتے رہیں گے مگر صحابی نہ بنیں گے کیونکہ صحابی بنانے والی چیز تو قبر انور میں چھپ گئی      ؎

خوشا وہ وقت کہ دیدار عام تھا اس کا                          خوشا وہ وقت کہ طیبہ مقام تھا اس کا

ہم خواب میں دیدار کو بھی ترس گئے    ؎

تم آتے خواب میں ہم پتلیاں تلوو ں سے مل لیتے       ہم اپنی سوئی قسمت کو جگاتے اپنی آنکھوں سے

5963 -[8]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْتَلَفُوا فِي دَفْنِهِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا. قَالَ: «مَا قَبَضَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي يحبُ أَن يُدْفَنَ فِيهِ» . ادفنوه فِي موضعِ فراشِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو آپ کے دفن میں لوگوں نے اختلاف کیا ۱؎ تو ابوبکر صدیق نے کہا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ایک بات سنی ۲؎ کہ الله نے کسی نبی کو وفات نہیں دی مگر اس جگہ جہاں ان کا دفن کیا جانا پسند تھا ۳؎ حضور کو آپ کے بستر کی جگہ میں ہی دفن کرو ۴؎ (ترمذی) ۵؎

۱؎ چنانچہ بعض صحابہ نے کہا کہ حضور کو مکہ معظمہ میں دفن کیا جاوے،بعض نے کہا بیت المقدس میں جہاں حضرات انبیاءکرام سو رہے ہیں،بعض نے کہا کہ مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں(اشعہ و مرقات)بلکہ بعض نے کہا کہ حضور انور کو دفن کیا ہی نہ جاوے (مرقات)تاکہ تاقیامت لوگ اس چاند کا دیدار کرتے رہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن