30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی آپ تو جنت کو سدھار گئے ہم کو یہاں تڑپتا چھوڑ گئے،ہم حضرت جبریل کو آپ کی خبر وفات سنائیں جن کا اب زمین پر آنا وحی لانا ختم ہوگیا۔
۶؎ یعنی اے انس تم نے کن ہاتھوں اور کس دل سے حضور انور پر قبر کی مٹی ڈالی اورتم نے کیسے اس چاند کو قبر میں چھپایا تم سے یہ کیسے برداشت ہوا۔خیال رہے کہ سیدہ کے یہ الفاظ نہ تو نوحہ ہیں نہ بے صبری بلکہ حضور کے فراق پر بے چینی ہے جو بذات خود عبادت ہے۔ نوحہ یہ ہے کہ میت کے ایسے اوصاف بیان کیے جاویں جو اس میں نہ ہوں اور پیٹا جاوے۔بے صبری یہ ہے کہ رب تعالٰی کی شکایت کی جاوے،جناب سیدہ ان دونوں سے محفوظ ہیں۔یہ بھی خیال رہے کہ دنیا میں پانچ حضرات بہت روئے ہیں:حضرت آدم علیہ السلام فراق جنت میں،حضرت نوح علیہ السلام و یحیی علیہ السلام خوف خدا میں،حضرت فاطمہ زہرا فراق رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں،حضرت امام زین العابدین واقعہ کربلا کے بعد حضرت حسین کی پیاس یاد کرکے۔جناب سیدہ زینب فرماتی تھیں ؎
صبت علی مصائب لوانھا صبت علی الایام صرن لیالیا
مجھ پر ایسی مصیبتیں پڑیں کہ اگر روز روشن پر پڑتیں تو وہ شب تاریک بن جاتی
|
5962 -[7] عَن أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا لِقُدُومِهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَفِي رِوَايَةِ الدَّارِمِيِّ قَالَ: مَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَأَيْت يَوْمًا كَانَ أقبح وأظلم مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْءٍ وَمَا نَفَضْنَا أَيْدِيَنَا عَنِ التُّرَابِ وَإِنَّا لَفِي دَفْنِهِ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبنَا |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حبشی بچے اپنے نیزوں سے کھیلتے تھے آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں ۱؎ (ابوداؤد) اور دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ میں نے کوئی دن نہ برا اور نہ بہت تاریک دیکھا اس دن سے جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے وفات پائی ۲؎ اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب وہ دن تھا جس میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف فرما ہوئے تو مدینہ کی ہر چیز چمک گئی ۳؎ پھر جب وہ دن ہوا جس میں حضور نے وفات پائی تو مدینہ کی ہر چیز تاریک ہوگئی اور ہم نے مٹی سے اپنے ہاتھ نہ جھاڑے حالانکہ ہم حضور کے دفن میں مشغول تھے حتی کہ ہم نے اپنے دلوں کو غیر پایا ۴؎ |
۱؎ حراب چھوٹا نیزہ،بعض روایات میں بحناجرھم ہے یعنی حضور انور کی تشریف آوری کی خوشی میں مدینہ منورہ میں رہنے والے حبشی لوگ نیز ہ بازی یا خنجر بازی کرنے لگے کہ نیزے یا خنجروں کو لے کر یہ لوگ ناچتے کودتے تھے اپنے کرتب دکھاتے تھے۔معلوم ہوا کہ خوشی میں بچوں کا گانابجانا،کھیل کود کرنا جائز بلکہ سنت صحابہ سے ثابت ہے۔عیدمیلاد کے موقعہ پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع