دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

ہے،بعض روایت میں اس کی تصریح بھی ہے کہ یہ نماز جنازہ تھی لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ شہید پر نماز جنازہ پڑھی جاوے گی اس کی مفصل بحث صلوۃ جنازہ میں گزرچکی۔

۲؎ یعنی اس دعا یا نماز جنازہ سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ حضور انور زندہ اور مردہ مسلمانوں کو وداع فرمارہے ہیں،زندوں کو اس لیے کہ اب وفات کا وقت قریب ہے لوگ اب حضور کی زیارت نہ کر سکیں گے،مردوں کو اس لیے کہ اب مردوں کے لیے حضورصلی الله علیہ وسلم کی دعائیں وغیرہ بند ہونے والی ہیں یہ واقعہ مرض وفات شروع ہونے سے پہلے ہوا۔

۳؎ فرط بمعنی فارط ہے جیسے تبع بمعنی تابع۔فرط وہ شخص ہے جو کسی جماعت سے آگے منزل پر پہنچ کر ان کے طعام قیام وغیرہ تمام ضروریات کا انتظام کرے جس سے وہ جماعت آکر ہر طرح آرام پائے۔مطلب یہ ہے کہ میں تم سے پہلے جارہا ہوں تاکہ تمہاری شفاعت تمہاری نجات تمہاری ہر طرح کارسازی کروں،تم میں سے جو بھی ایمان پر فوت ہوگا وہ میرے پاس میری حفاظت میرے انتظام میں اس طرح آوے گا جیسے مسافر اپنے گھر آتا ہے بھرے گھر میں۔(از اشعہ)مؤمن مرتے ہی حضور کی پاس پہنچتا ہے بلکہ بعض مؤمنوں کی جانکنی کے وقت حضور انور انہیں لینے تشریف لاتے ہیں جیساکہ امام بخاری کا واقعہ ہوا اور بہت مرنے والوں سے سنا گیا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم آگئے۔خیال رہے کہ چھوٹے فوت شدہ بچوں کو بھی فرط فرمایا گیا ہے مگر وہ فرط ناقص ہیں حضور انور فرط کامل یعنی ہر طرح کے منتظم،نیز ایدیکم میں خطاب ساری امت سے ہے نہ کہ صحابہ کرام سے حضور اپنی امت کے دائمی منتظم ہیں۔

۴؎ اس کی تائید اس آیت سے ہے"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"شہید بمعنی نگران گواہ ہے نہ کہ فقط گواہ ورنہ علیٰ نہ آتا بلکہ لام آتا۔شہادت کے ساتھ اگر علیٰ ہو تو خلاف گواہی مراد ہوتی ہے یعنی اے مسلمانوں میں تمہارے ایمان،اعمال قلبی حالات کا علیم و خبیر و حفیظ و نگراں ہوں،تم سب کے ایمان کی نبض پر میرا ہاتھ ہے،مجھے ہرشخص کے ایمان اور درجہ ایمان کی ہر وقت خبر ہے۔اس کی نہایت لذیذ و نفیس تفسیر ہماری تفسیرنعیمی پارہ دوم کے شروع میں ملاحظہ کرو۔

۵؎ یعنی میں نے جس شفاعت خاصہ کا تم سے وعدہ کیا ہے وہ شفاعت حوض کوثر پر کروں گا۔(مرقات)یا قیامت میں میری تمہاری خصوصی ملاقات کی جگہ حوض کوثر ہے۔(اشعہ)اس صورت میں یہاں خصوصی ملاقات مراد ہے ورنہ حضور کی ملاقات حضور کا دیدار تو مؤمن کو قبر میں ہی نصیب ہوتاہے پھر قیامت میں بہت جگہ دیدار ہوگا،بعض لوگ بعد وفات تاقیامت حضور ہی کے پاس رہتے ہیں اللھم اجعلنامنہم۔

۶؎ یہ ہے حضور کا حاضروناظر ہونا کہ مدینہ منورہ میں کھڑے ہوئے اس حوض کوثر کو دیکھ رہے ہیں جو جنت میں ہے اور جنت ساتوں آسمان سے اوپر ہے ،جس کی نگاہ مدینہ سے جنت تک کو دیکھ سکتی ہے اس کی نظر ساری روئے زمین کو یہاں کے رہنے والوں کو بھی دیکھ سکتی ہے کیونکہ زمین حوض کوثر سے قریب ہے۔

۷؎ اس طرح کہ مجھے زمین کے تمام خزانوں کا مالک مختار قاسم بنایا جسے جو ملے گا ہماری عطا سے ملے گا۔فرماتے ہیں الله المعطی وانا قاسم۔اشعہ نے فرمایا کہ یہ تو ظاہری خزانوں کا حال ہے رہے باطنی خزانے سو آسمان و زمین ملک و ملکوت کی چابیاں حضور کو عطا ہوئیں     ؎

دی کنجی تمہیں اپنے خزانوں کی خدا نے                                   سرکار  کیا  مالک و مختار  بنایا

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن