30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی ان بندہ کو رب نے اختیار دیا کہ یا تو وہ دنیا میں بہت دراز عمر اور ہر طرح کا عیش و آرام قبول کریں یا رب تعالٰی کی ملاقات اور آخرت کی نعمتیں اختیار کریں جو ان کی مرضی ہو وہ ہی رب کی طرف سے عطا ہو۔
۳؎ یعنی ان بندے نے دنیا کو چھوڑ دیا آخرت اور وہاں کی نعمتیں اعلیٰ بھی ہیں اور غیر فانی بھی۔(مرقات)
۴؎ یعنی یارسول الله اگر آپ میرے اور میرے ماں باپ کے فدا ہوجانے سے دنیا میں رہنا قبول فرمالیں تو مجھے فدا ہونے قربان ہونے میں کوئی تأمل نہ ہو،میں مع اپنے ماں باپ کے آپ پر قربان ہوجاؤں آپ یہاں سے نہ جاویں۔(مرقات)
۵؎ یعنی حضور انورنے کوئی رونے والی بات فرمائی نہیں حضرت صدیق اکبر روئے کیوں اور فدا ہوجانے پر تیار کیوں ہوئے حضور تو کسی بندے کا ایک واقعہ بیان فرمارہے ہیں اس میں رونے اور فدا ہونے کی کیا بات ہے یہ ہماری سمجھ میں نہ آیا۔
۶؎ یعنی جب پانچ دن کے بعد حضور انور کی وفات ہوئی تب ہم کو پتہ لگا کہ حضور انور نے یہ واقعہ اپنا بیان فرمایا،ایک بندہ سے مراد اپنی ذات مبارکہ تھی یہ راز سوائے حضرت ابوبکر کے کوئی نہ سمجھا اس لیے آپ روئے اور یہ کلمات فرمائے۔معلوم ہوا کہ جناب صدیق اکبر تمام صحابہ اور اہلِ بیت سے بڑے عالم بہت ذکی و فہیم اور سب سے زیادہ مزاج شناس رسول تھے رضی الله عنہ اسی لیے حضور انور نے اپنے مصلے پر آپ کو کھڑا کیا امام وہ ہی بنایا جاتا ہے جو سب سے بڑا عالم ہو،سارے صحابہ میں آپ سب سے بڑے عالم تھے۔ہم نے عرض کیا ہے ؎
علم میں فضل میں بے شبہ تو سب سے افضل اس امامت سے ترے کھل گئے جوہر صدیق
اس امامت سے کھلا تم ہو امام اکبر تھی یہ ہی رمز نبی کہتے ہیں حیدر صدیق
|
5958 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: صَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتْلَى أحد بعد ثَمَانِي سِنِينَ كَالْمُوَدِّعِ لِلْأَحْيَاءِ وَالْأَمْوَاتِ ثُمَّ طَلَعَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: «إِنِّي بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَرَطٌ وَأَنَا عَلَيْكُمْ شَهِيدٌ وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَيْهِ من مَقَامِي هَذَا وَإِنِّي قَدْ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ وَإِنِّي لَسْتُ أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوابعدِي وَلَكِنِّي أخْشَى عَلَيْكُم الدُّنْيَا أَن تنافسوها فِيهَا». وَزَادَ بَعْضُهُمْ:: «فَتَقْتَتِلُوا فَتَهْلِكُوا كَمَا هَلَكَ من كَانَ قبلكُمْ» . |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے شہداء احد پر آٹھ سال کے بعد نماز پڑھی ۱؎ زندوں مردوں کو رخصت فرمانے والوں کی طرح ۲؎ پھر آپ منبر پر چڑھے فرمایا کہ میں تمہارے آگے پیشرو ہوں۳؎ اور میں تمہارا نگران گواہ ہوں۴؎ اور تمہارے وعدہ کی جگہ حوض ہے ۵؎ اور میں اسے اپنی اس جگہ سے دیکھ رہا ہوں ۶؎ اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں عطا کی گئیں ۷؎ میں تم پر یہ خوف نہیں کرتا کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ۸؎ لیکن میں تم پر دنیا کا خوف کرتا ہوں کہ تم اس میں رغبت کر جاؤ اور بعض نے یہ زیادتی کی پھر تم جنگ کرو تو اسی طرح ہلاک ہوجاؤ جیسے تم سے پہلے والے ہلاک ہوئے ۹؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ شوافع کہتے ہیں کہ یہاں صلوۃ سے مراد دعاءمغفرت ہے نہ کہ نماز جنازہ،ان کے ہاں شہید پر نماز جنازہ نہیں پڑھی جاتی مگر یہ بات قوی نہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم ہر سال شہداء احد کی زیارت کرتے اور انکے لیے دعاء مغفرت فرماتے تھے پھر اس دعا کا ذکر خصوصیت سے کیوں ہوا اللھم الا ان یقال کہ یہ دعاء خصوصی تھی۔یعنی دعاء وداع جس میں وداعیہ کلمات تھے۔ہمارا قوی جواب یہ ہے کہ حضور انور نے شہداء احد کی آج نماز جنازہ پڑھی آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھنا حضور انور کی خصوصیت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع