30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور صلی الله علیہ وسلم کے مدینہ پاک تشریف لے جانے سے پہلے پچیس صحابہ مدینہ منورہ ہجرت کرکے پہنچ چکے تھے اسلام وہاں پھیل چکا تھا۔
۴؎ حضور انور جناب ابوبکر صدیق کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرکے پہنچے دن دو شنبہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ نبوت کے تیرھویں سال۔
۵؎ مسلم شریف باب حدیث الہجرت میں ہے کہ اس دن بچیاں بچے مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں یہ کہتے پھرتے تھے یامحمد یارسول الله اور چھتوں پر عورتیں وغیرہا اس جلوس کا نظارہ کرتی تھیں مگر یہ روایت مسلم کی اس روایت کے خلاف نہیں بعض بچے یہ کہتے تھے اور بعض دوسرے بچے جلوس نکالتے تھے،یا اولًا یہ کہا بعد میں جلوس نکالا اور وہ کلمات کہے۔
۶؎ یعنی حضور انور کے مدینہ منورہ تشریف لانے تک ان آنے والے صحابہ کرام سے سورۂ اعلیٰ اور اس جیسی دوسری سورتیں اوساط مفصل کی سیکھ چکا تھا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ اعلیٰ مکیہ ہے مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ اس سورہ کے آخر میں ہے"قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی وَ ذَکَرَ اسْمَ رَبِّہٖ فَصَلّٰی"یہاں تزکی سے مراد ہے صدقہ فطر ادا کرنا اور صلی سے مراد ہے نماز عید پڑھنا۔صدقہ فطر اور نماز عید دونوں ۲ھ ہجری میں آئیں پھر یہ سورت مکیہ کیسے ہوئی اس لیے بعض نے فرمایا کہ ساری سورۂ اعلیٰ تو مکیہ ہے مگر یہ آیت مَدَنِیہ ہے مگر حق یہ ہے کہ پوری سورۂ اعلیٰ مکیہ ہے اس آیت میں نماز عید اور فطرہ کی ترغیب ہے جو مکہ معظمہ میں دی گئی اس پر عمل بعد ہجرت ہوا۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہاں تزکی سے مراد تزکیہ نفس دل کی صفائی ہو اور صلی سے مراد نماز پنجگانہ ہو اس صورت میں کوئی اشکال نہیں۔
|
5957 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: «إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ». فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ قَالَ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتنَا فعجبنا لَهُ فَقَالَ النَّاس: نظرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُخَير وَكَانَ أَبُو بكر هُوَ أعلمنَا. |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ۱؎ تو فرمایا کہ ایک بندے کو الله نے اس کا اختیار دیا کہ اسے دنیا کی ترو تازگی اتنی عطا کرے جتنی وہ چاہے اور وہ نعمتیں جو اس کے پاس ہیں ۲؎ تو اس بندے نے الله کے پاس کی نعمتیں اختیار کرلیں ۳؎ حضرت ابوبکر رونے لگے عرض کیا آپ پر ہمارے ماں باپ فدا ۴؎ ہم نے ان پر تعجب کیا لوگ بولے ان بزرگ کو تو دیکھو کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تو اس بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے الله نے اختیار دیا کہ اسے دنیا کی سرسبزی دے اور وہ جو اس کے پاس ہے وہ دے اور آپ کہتے ہیں کہ آپ پر ہمارے ماں باپ فدا ہوں۵؎ پھر پتہ لگا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہی اختیار دیئے ہوئے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ہم سب میں زیادہ علم والے تھے ۶؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ واقعہ مرض وفات میں وفات شریف سے پانچ دن پہلے ہوا۔(اشعہ،مرقات)یعنی جمعرات کے دن اور پیر کے دن وفات شریف ہوئی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع