30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہم لوگ بھی وہاں جاکر یہ ساری بہار اپنی آنکھوں دیکھیں گے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ عالم ارواح میں حضور سارے نبیوں کے نبی تھے،آپ ان کی روحوں کو تعلیم و تربیت دیتے تھے،سارے نبی حضور کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کرکے دنیا میں تشریف لائے اور حضور سے سیکھے ہوئے علوم مخلوق کو سکھائے۔(اشعۃ اللمعات) اللھم صل علی سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے۔چنانچہ ابن سعد نے اور ابو نعیم نے حلیہ میں،طبرانی نے کبیر میں حضرت ابن عباس سے یوں روایت کی کنت نبیا و آدم بین الروح والجسد،امام احمد نے اور بخاری نے اپنی تاریخ میں اور حاکم نے اور ابونعیم نے دلائل میں حضرت ابوہریرہ سے مرفوعًا روایت کی کنت اول النبی فی الخَلق واخرھم فی البعث ہم پیدائش میں تمام نبیوں سے پہلے ہیں بعثت میں سب کے بعد،دانہ درخت سے پہلے زمین میں جاتا ہے اور آخر میں وہ ہی دانہ نمودار ہوتا ہے،ہم نے عرض کیا ؎
باغ رسالت کی ہیں جڑ اور ہیں بہار آخری مبداء جو اس گلشن کے تھے وہ منتہی یہ ہی تو ہیں
خیال رہے کہ جسمانی نبوت کے لیے شرط ہے کہ نبی انسان ہوں اور انسانی سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوجاتا ہے، روحانی نبوت کے لیے یہ شرط نہیں۔لہذا اس فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ نبی انسان ہونے چاہئیں،اس وقت حضور صفت انسانیت سے موصوف نہ تھے،یا یوں کہو کہ انسانیت کے لیے اولاد آدم ہونا ضروری حضرت بی بی حوا انسان ہیں مگر اولاد آدم نہیں،یوں ہی جو مخلوق جنت بھرنے کے لیے پیدا کی جاوے گی وہ انسان ہوگی مگر اولاد آدم نہ ہوگی لہذا اس وقت بھی حضور انسانیت کی صفت سے موصوف تھے۔
|
5759 -[21] وَعَن العِرْباض بن ساريةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:"إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ: خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لِمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ وَسَأُخْبِرُكُمْ بِأَوَّلِ أَمْرِي دَعْوَةُ إِبْرَاهِيمَ وَبِشَارَةُ عِيسَى وَرُؤْيَا أُمِّي الَّتِي رَأَتْ حِينَ وَضَعَتْنِي وَقَدْ خَرَجَ لَهَا نُورٌ أَضَاءَ لَهَا مِنْهُ قُصُورُ الشَّامِ «. وَرَاه فِي» شرح السّنة " 5760 -[22] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مِنْ قَوْلِهِ: «سأخبركم» إِلَى آخِره |
روایت ہے حضرت عرباض ابن ساریہ سے ۱؎ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا میں الله تعالٰی کے نزدیک آخر نبی لکھا ہوا تھا جب کہ آدم اپنی خمیر میں لوٹ رہے تھے ۲؎ میں تم کو اپنی پہلی حالت بتاتا ہوں میں دعاء ابراہیم ہوں اور بشارت عیسیٰ ہوں۳؎ میں اپنی ماں کا نظارہ ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا کہ ان کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ان کے لیے شام کے محل چمک گئے۴؎ (شرح سنہ)اور احمد بروایت ابو امامہ حضور کے فرمان ساخبرکم سے۔ |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں،صفہ والے صحابہ میں سے ہیں،آپ بہت گریہ زاری کرنے والوں سے تھے،آپ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے متعلق آیت کریمہ"وَّلَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَہُمْ"الخ نازل ہوئی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع