30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ اس باب میں دو قسم کے مضامین ہوں گے: حضرات صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات اس لیے صرف باب کہا کہ اس کا مضمون ایک نہیں چند ہیں۔خیال رہے کہ حضور انور ماہ صفر کے آخری تاریخوں میں شنبہ کے دن درد سر بخار سے بیمار ہوئے سترہ دن بیمار رہے،بارہویں ربیع الاول دو شنبہ کو وفات ہوئی،بدھ کو دفن ہوئے، زمانہ مرض میں چالیس غلام آزاد کیے،آخری دن میں مسجد تشریف نہ لائے،حضرت صدیق اکبر کو اپنی جگہ امام مقررکیا صرف ایک نماز میں تشریف لائے جس کے بعد خطبہ فرمایا،بعد وفات حضرت ابوبکر صدیق کی ہدایت پر ازواج پاک اور علی مرتضیٰ نے غسل دیا(ترمذی)بعد غسل آنکھ کے کوئے شریف میں پانی کا قطرہ رہ گیا وہ حضرت علی نے چاٹ لیا تھا جس سے آپ کا حافظہ بہت ہی قوی ہوگیا،آپ کی قبر انور میں آپ کے غلام شقران نے آپ کا کمبل بچھادیا،قبر انور لحد یعنی بغلی تھی جسے نو اینٹوں سے بند کیا گیا۔(اشعۃ اللمعات)
|
5956 -[1] عَن الْبَراء قَالَ: أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَجَعَلَا يُقْرِآنِنَا الْقُرْآنَ ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ يَقُولُونَ: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ فَمَا جَاءَ حَتَّى قرأتُ: [سبِّح اسْم ربِّك الْأَعْلَى] فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا مِنَ الْمُفَصَّلِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت براء سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ سے جو پہلے ہمارے پاس پہنچے وہ مصعب ابن عمیر اور ابن ام مکتوم تھے وہ دونوں ہم کو قرآن پڑھانے لگے ۲؎ پھر جناب عمار و بلال اور سعد آگئے پھر حضرت عمر ابن خطاب بیس صحابہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی جماعت میں آپہنچے۳؎ پھر خود نبی صلی الله علیہ وسلم بنفس نفیس تشریف لائے۴؎ تو میں نے مدینہ والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ کسی چیز سے خوش ہوئے جیساکہ حضور کی تشریف آوری سے خوش ہوئے حتی کہ میں نے بچیوں اور بچوں کو کہتے سنا کہ یہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لے آئے ۵؎ پھر آپ نہ آئے حتی کہ"سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی"ان جیسی مفصل کی سورتوں کے درمیان میں پڑھ چکا تھا ۶؎ (بخاری) |
۱؎ براء ابن عازب مشہور انصاری صحابی ہیں،پہلے آپ غزوہ خندق میں شریک ہوئے اس سے پہلے بچہ تھے،حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل و صفین میں شریک ہوئےعبدالله ابن زبیر کی خلافت میں کوفہ میں وفات پائی۔(اشعہ)
۲؎ ان دونوں حضرات کو حضور صلی الله علیہ وسلم نے انصار مدینہ کی عرض معروض پر مدینہ منورہ بھیجا تاکہ یہ دونوں انصار کو قرآن اور احکام اسلام کی تعلیم دیں،اولًامدینہ منورہ میں یہ دونوں حضرات آئے۔(اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع