دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

۴؎ مروان کی کنیت ابو عبدالملک ہے،قرشی اموی ہیں،حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دادا ہے،مروان حضور انور کے زمانہ میں پیدا ہوا مگر حضور کی زیارت نہ کرسکا لہذا تابعی ہیں کیونکہ حضور انور نے اس کے باپ حکم کو طائف کی طرف نکال دیا تھا یہ اس کے ساتھ تھا،دمشق میں فوت ہوا   ۶۵ھ؁ میں مرا،اس سے بہت صحابی حتی کہ حضرت عثمان و علی اور عروہ ابن زبیر اور امام زین العابدین نے بھی اس سے احادیث لیں۔(اکمال)یہ امیر معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا۔

۵؎ یعنی میری کچھ زمین حضرت سعید ابن زید نے غصب کرلی ہے مجھے واپس دلوائی جاوے۔

۶؎ یعنی یہ ناممکن ہے کہ میں صحابی رسول ہوکر اور زمین کے غصب کے متعلق سرکار کا فرمان عالی سن کر پھر کسی کی انچ بھر زمین غصب کروں۔

۷؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ آسمان کی طرح زمین بھی سات ہیں اور وہ سات زمینیں سات ملک نہیں بلکہ اوپر تلے تہ بہ تہ سات طبق ہیں ورنہ سات زمینیں حنسلی بنا کر گلے میں ڈالنے کے کیا معنی،اس کی تائید اس آیت سے ہے"سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَہُنَّ"۔

۲؎ یہاں بینہ سے مراد دلیل ہے نہ کہ گواہ کیونکہ حضرت سعید ابن زید مدعیٰ علیہ تھے،آپ پر گواہ لازم نہ تھے قسم ضروری تھی یعنی میں آپ سے قسم بھی نہ لوں گا بغیر قسم آپ کے حق میں فیصلہ کرتا ہوں ایسا شخص کسی کی زمین غصب نہیں کرسکتا۔

۹؎ حضرت سعید نے یہ زمین ارویٰ بنت اوس کے حوالے کردی اور یہ بددعا ساتھ میں دی کہ خدایا یہ زمین اگر اس کی نہ ہو تو اسے اندھا بھی کردے اور اس زمین میں اسے ہلاک بھی کردے جو میں نے اس کے حوالہ کی ہے۔(مرقات)ارضھا سے مراد ہے اس عورت کی یہ مقبوضہ زمین نہ کہ اس کی مملوکہ زمین۔

۱۰؎ اس زمین میں ایک کنواں تھا اس کنویں میں گر کر مری۔

۱۱؎ محمد ابن عبداللہ تابعی ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں،حضرت عمر ضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی ہے ان سے احادیث لی ہیں۔

۱۲؎ یعنی اس عورت نے آج اقرار کرلیا کہ حضرت سعید سچے تھے میں جھوٹی اور ان کی بددعا سے مجھ پر یہ آفات آئی ہیں۔شیخ سعدی فرماتے ہیں  ؎

تواں بہ حلق فرو بردن استخوان درشت                    ولے شکم بہ درد چوں بگیرداندر ناف

ظلم کی چیز ایک سخت ہڈی ہے جو نگل لینے کے بعد پیٹ پھاڑ ڈالتی ہے۔

۱۳؎ اس سے بظاہر معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی نعش کنویں سے نکالی نہ جاسکی نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جاسکی نہ کفن دفن ہوسکا یہ ہے اللہ کے مقبول بندے کی بد دعا   ؎

بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن                    اجابت ازدرحق بہر استقبال می آید

مظلوم کی بددعا قبولیت کے پاس نہیں جاتی بلکہ قبولیت اس کے پاس آتی ہے۔اس حدیث میں حضرت سعید کی کرامت کا ثبوت ہے کہ جو آپ کے منہ سے نکلا وہ ہوبہو پورا ہوا اسی لیے اسے بابِ کرامات میں لائے۔

5954 -[11]

وَعَن ابْن عمر أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا يُدْعَى سَارِيَةَ فَبَيْنَمَا عُمَرُ يَخْطُبُ فَجَعَلَ يَصِيحُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقِيَنَا عَدُوُّنَا فَهَزَمُونَا فَإِذَا بِصَائِحٍ يَصِيحُ: يَا سَارِيَ الْجَبَلَ. فَأَسْنَدْنَا ظُهُورَنَا إِلَى الْجَبَلِ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ تَعَالَى رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ جناب عمر نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنایا جنہیں ساریہ کہا جاتا تھا ۱؎ تو جب کہ جناب عمر خطبہ پڑھ رہے تھے ۲؎کہ اچانک چیخنے لگے اے ساریہ پہاڑ کو لو۳؎ پھرلشکر سے ایک قاصد آیا بولا اے امیر المؤمنین ہم کو ہمارا دشمن ملا انہوں نے ہم کو بھگادیا تو کوئی چیخنے والا بولا اے ساریہ پہاڑ کو لو ہم نے اپنی پیٹھیں پہاڑ کی طرف لگالیں تب انہیں اللہ تعالٰی نے بھگادیا(بیہقی دلائل النبوۃ)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن