دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 8 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ہشتم

5951 -[8]

وَعَن سعيد بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: لَمَّا كَانَ أَيَّامُ الْحَرَّةِ لَمْ يُؤَذَّنْ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَلَمْ يُقَمْ وَلَمْ يَبْرَحْ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَسْجِدَ وَكَانَ لَا يَعْرِفُ وَقْتَ الصَّلَاةِ إِلَّا بِهَمْهَمَةٍ يَسْمَعُهَا مِنْ قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے سعید ابن عبدالعزیز سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب جنگ حرہ کا زمانہ ہوا ۲؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں تین دن نہ اذان کہی گئی نہ تکبیر کہی گئی اور سعید ابن مسیب مسجد سے نہ ہٹے ۳؎ وہ نماز کا وقت نہیں پہچانتے تھے مگر ایک گنگناہٹ سے جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے سنتے تھے ۴؎(دارمی)

۱؎ آپ تنوحی دمشقی ہیں،اہل شام کے مفتی ہیں،بڑے متقی زاہد تھے،امام اوزاعی کے ہم زمانہ ہیں،امام احمد فرماتے ہیں کہ آپ کے زمانہ میں آپ اور امام اوزاعی بڑے ثقہ تھے۔

۲؎ یہ واقعہ یزید ابن معاویہ کے زمانہ کربلا کے واقعہ کے بعد ہوا،اس مردود نے مسلم ابن عقیل کے سرکردگی میں مدینہ منورہ پر حملہ کردیا اہلِ مدینہ پر بڑے ظلم ڈھائے،چونکہ یہ حملہ مقام حرہ کی طرف سے ہوا تھا اس لیے اسے جنگ حرہ کہا جاتا ہے۔حرہ مدینہ منورہ کے باہر ایک پتھریلا میدان ہے،یہ واقعہ  ۶۳ھ؁ میں ہوا۔یہاں مرقات میں ہے کہ اہل مدینہ نے ایک شامی قافلہ کو تاراج کردیا اس پر یہ واقعہ پیش آیا،حرہ کے واقعہ کے بعد ہی یزید ہلاک ہوگیا،حرہ ذی الحجہ  ۶۳ھ؁ میں ہوا۔

۳؎ سعید ابن مسیب تابعی ہیں،انہوں نے چالیس حج کیے،بڑے عابد زاہد تھے، ۷۳ھ؁ تہتر میں وفات پائی،زمانہ حرہ میں لوگ سمجھتے کہ آپ دیوانہ ہوگئے ہیں۔

۴؎ قبر انور سے نماز کے اوقات میں آواز آنا حضور انور کا معجزہ تھا اوراس آواز کا سعید ابن مسیب کا سن لینا یہ کرامت ہے اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔

5952 -[9]

وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي الْعَالِيَةِ: سَمِعَ أَنَسٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: خَدَمَهُ عَشْرَ سِنِينَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ بُسْتَانٌ يَحْمِلُ فِي كُلِّ سَنَةٍ الْفَاكِهَةَ مَرَّتَيْنِ وَكَانَ فِيهَا رَيْحَانٌ يَجِيءُ مِنْهُ رِيحُ الْمِسْكِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے ابوخلدہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ابو العالیہ سے کہا ۱؎ کہ کیا حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے فرمایا انہوں نے دس سال حضور کی خدمت کی ہے اور حضور نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے ۲؎ ان کا ایک باغ تھا جو ہر سال میں دوبار میوہ دیتا تھا اور اس باغ میں ایک گھاس تھی جس سے مشک کی خوشبو آتی تھی ۳؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن ہے غریب ہے۔

۱؎ ابوخلدہ کا نام خالد ابن دینار ہے،تمیمی ہیں،سعدی بصری ہیں،وہاں درزی گری کی دکان کرتے تھے،تابعی ہیں،ابو العالیہ کا نام رفیع ابن مہران رباحی ہے،آپ بھی تابعی ہیں،حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروق سے ملاقات ہے،   ۹۰ھ؁ نوے میں آپ کی وفات ہے۔

۲؎ غالبًا یہ قول ابوالعالیہ کا ہے اس سے مقصود ہے حضرت انس کی عظمت بیان کرنا۔

۳؎ شاید اس گھاس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت و کرم سے ہاتھ شریف پھیر دیا ہوگا،حضرت انس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادتی عمر و اولاد کی دعا بھی کی تھی تو آپ کی عمر سو برس سے زیادہ ہوئی،آپ کی اولاد اور اولاد در اولاد آپ کی زندگی میں ایک سو تک پہنچی جن میں تہتر لڑکے تھے اور ستائیس لڑکیاں اور مال کی برکت تو یہاں مذکور ہے  ؎

ہاتھ جس سمت اٹھے غنی کردیا                                 موج بحر سماحت پہ لاکھوں سلام

یہ سب حضور پاک کے معجزات ہیں اور حضرت انس کی کرامات۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن