30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ یعنی تم اکیلے تو میرے بیٹے ہو اور میری آٹھ یا نو بیٹیاں ہیں،تم ہی ان کے اکیلے منتظم ہو تم ان سے اچھا برتاوا کرانا،ترجیح اس کو ہے کہ حضرت جابر کی نو بہنیں تھیں بھائی کوئی نہ تھا۔(اشعہ،مرقات)غالبًا آپ کی والدہ نہ تھیں پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں۔و الله و رسولہ اعلم!
۵؎ چونکہ اس موقعہ پر کفن بہت کم تھا اس لیے سرکاری حکم تھا کہ ایک ایک قبر میں چند شہید دفن کیے جاویں۔اسی فرمان کے مطابق حضرت عبداللہ کو ان کے دوست اور ان کے بہنوئی حضرت عمرو ابن جموح کے ساتھ دفن کیا گیا۔خیال رہے کہ حضرت عمرو ابن جموح حضرت عبداللہ کے گہرے دوست بھی تھے اور ان کے بہنوئی بھی۔(مرقات و اشعہ)پھر بعد میں حضرت عبداللہ کو وہاں سے منتقل کرکے جنت البقیع میں دفن کیا گیا،فقیر نے قبر شریف کی زیارت کی ہے۔
|
5946 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن عبد الرَّحْمَن بن أبي بكر إِنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فَقُرَاءَ وَإِنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ عِنْده طَعَام اثْنَيْنِ فليذهب بثالث وَإِن كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ أَوْ سادس» وَأَن أَبَا بكر جَاءَ بِثَلَاثَة فَانْطَلق النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَإِنَّ أَبَا بكر تعَشَّى عِنْد النبيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صُلِّيَتِ الْعِشَاءُ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى تَعَشَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ الله. قَالَت لَهُ امْرَأَته: وَمَا حَبسك عَن أضيافك؟ قَالَ: أوما عَشَّيْتِيهِمْ؟ قَالَتْ: أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ فَغَضِبَ وَقَالَ: لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ أَنْ لَا تَطْعَمَهُ وَحَلَفَ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمُوهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَانَ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَتْ مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرَ مِنْهَا. فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا؟ قَالَتْ: وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلُوا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا.وَذُكِرَ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: كُنَّا نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَام فِي «المعجزات» |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن ابوبکر سے ۱؎ کہ صفہ والے مسکین والے لوگ تھے ۲؎ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تیسرے کو لے جائے اور جس کے پاس چار کا کھانا ہو وہ پانچویں کو یا چھٹے کو لے جاوے۳؎ اور حضرت ابوبکر تین شخص لائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس حضرات لائے ۴؎ ابوبکر صدیق نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رات کا کھانا کھایا پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ عشاء کی نماز پڑھ لی گئی آپ پھر لوٹ گئے پھر کچھ ٹھہرے حتی کہ عشاء کی نماز پڑھ لی گئی حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کا کھانا کھالیا ۵؎ پھر آپ آئے اس کے بعد رات کا مشیت الٰہی کے بقدر حصہ گزر گیا ان سے ان کی بیوی نے کہا کہ تمہیں تمہارے مہمانوں سے کس چیز نے روکا ۶؎ آپ نے کہا کیا تم نے انہیں کھانا نہیں کھلایا وہ بولیں کہ انہوں نے تمہارے آنے تک کھانے سے انکار کیا ۷؎ آپ ناراض ہوئے اور بولے خدا کی قسم میں یہ کبھی نہ کھاؤں گا۸؎ آپ کی بیوی نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گی اور مہمانوں نے قسم کھالی کہ وہ بھی نہ کھائیں گے ۹؎ جناب صدیق نے کہا کہ یہ قسم شیطان کی طرف سے ہوگئی آپ نے کھانا منگایا پھر کھایا پھر ان سب نے کھایا ۱۰؎ تووہ لوگ کوئی لقمہ نہ اٹھاتے تھے مگر اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھتا تھا ۱۱؎ آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ اے بنی فراس کی بہن ۱۲؎ یہ کیا وہ بولیں میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم ۱۳؎ یہ کھانا پہلے سے تین گنا زیادہ ہے ۱۴؎ ان سب نے یہ کھانا کھایا اور اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا کہا گیا ہے کہ حضور نے بھی اس میں سے کھایا ۱۵؎(مسلم،بخاری)اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کی حدیث کہ ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے باب المجزات میں ذکر کردی گئی ۱۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع